مادرِ مہربان بیگم اکبر جہاں تاریخ کے دریچوں سے جھانکتی ایک باوقار اور عہد ساز شخصیت
تحریر: ____________شاہد رشید
تاریخ کا حافظہ بڑی عجیب چیز ہے۔ اقتدار کی چکاچوند، خطابت کے شور اور وقتی مقبولیت کے جلوے اکثر وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، مگر وہ شخصیات جو اپنے کردار، خدمت اور انسان دوستی کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتی ہیں، زمانہ انہیں کبھی فراموش نہیں کرتا۔ جموں و کشمیر کی معاصر تاریخ میں بیگم اکبر جہاں عبداللہ ایسی ہی ایک شخصیت تھیں جن کی شناخت محض ایک سیاسی قائد کی شریکِ حیات یا ایک ممتاز سیاسی خاندان کی بزرگ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی خاتون کے طور پر قائم ہوئی جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ عوامی خدمت، سماجی بہبود اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے وقف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ کشمیر نے انہیں محبت اور احترام کے ساتھ "مادرِ مہربان” کا لقب عطا کیا، جو کسی سرکاری اعزاز سے کہیں زیادہ بڑا اعتراف ہے۔
بیگم اکبر جہاں کی زندگی کو اگر محض سیاسی عینک سے دیکھا جائے تو ان کے کردار کا ایک محدود پہلو سامنے آتا ہے، لیکن ان کی شخصیت کا اصل جوہر اس وسیع انسانی خدمت میں پوشیدہ ہے جو انہوں نے خاموشی، اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ انجام دی۔ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جنہوں نے ایسے دور میں سماجی اور عوامی میدان میں اپنا مقام بنایا جب خواتین کی سیاسی اور سماجی شرکت آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ محدود تھی۔
1918ء میں سری نگر کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہونے والی اکبر جہاں نے تعلیم و تربیت کے ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں مذہبی اقدار، سماجی ذمہ داری اور انسانی احترام کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ 1933ء میں شیخ محمد عبداللہ سے ان کی شادی ایک ایسے سفر کا آغاز تھی جو آگے چل کر کشمیر کی سیاسی تاریخ سے جڑ گئی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریاست سیاسی بے چینی، عوامی بیداری اور آئینی حقوق کی جدوجہد سے گزر رہی تھی۔ شیخ محمد عبداللہ کی زندگی کا بڑا حصہ سیاسی تحریکوں، عوامی اجتماعات اور قید و بند کی صعوبتوں میں گزرا۔ ایسے نازک ادوار میں بیگم اکبر جہاں نے صرف گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ ہی نہیں اٹھایا بلکہ ایک مضبوط رفیقِ سفر کی حیثیت سے تحریک کے کارکنوں اور عوام کے حوصلے کو بھی قائم رکھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی تحریکوں کی کامیابی کے پس منظر میں ایسی خاموش مگر باہمت شخصیات موجود ہوتی ہیں جن کا کردار اخبارات کی سرخیوں سے زیادہ لوگوں کی یادوں میں محفوظ رہتا ہے۔
بیگم اکبر جہاں کی اصل شناخت ان کی سماجی خدمات سے عبارت ہے۔ وہ یتیموں، بیواؤں، غریبوں اور نادار خاندانوں کی دستگیری کو محض فلاحی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری سمجھتی تھیں۔ خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشرتی وقار کے لیے ان کی کاوشیں آج بھی احترام سے یاد کی جاتی ہیں۔ ان کا گھر سیاسی ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ضرورت مندوں کی امیدوں کا بھی مرکز تھا، جہاں سے بے شمار افراد کو مدد، رہنمائی اور حوصلہ ملا۔
1984ء میں سری نگر سے لوک سبھا کی رکن منتخب ہونا ان کی عوامی مقبولیت کا فطری اظہار تھا۔ پارلیمنٹ میں ان کی آواز نہایت متوازن، سنجیدہ اور باوقار رہی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے عوام کے مسائل، خواتین کی فلاح اور ترقیاتی تقاضوں کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی سیاست میں تلخی، انتقام یا ذاتی مفاد کا عنصر نمایاں نہیں تھا، بلکہ خدمت اور شائستگی ان کی پہچان رہی۔
کشمیر کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بیگم اکبر جہاں نے ایک ایسے دور میں خواتین کی قیادت کا عملی نمونہ پیش کیا جب اس راہ میں سماجی رکاوٹیں کم نہ تھیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خواتین صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں بلکہ قوم کی فکری، سماجی اور سیاسی تعمیر میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کا طرزِ عمل نئی نسل کی خواتین کے لیے آج بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
آج جب ہم سیاسی زندگی میں شائستگی، دیانت، برداشت اور خدمت کے فقدان کی شکایت کرتے ہیں تو بیگم اکبر جہاں کی زندگی ہمیں ان اقدار کی یاد دلاتی ہے جن پر مضبوط معاشرے استوار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کبھی عوامی خدمت کو تشہیر کا ذریعہ نہیں بنایا۔ ان کے نزدیک انسان کی اصل عظمت اس کے منصب میں نہیں بلکہ اس کے کردار میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رحلت کے برسوں بعد بھی ان کا نام احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
11 جولائی صرف ایک برسی نہیں بلکہ اجتماعی یادداشت کا ایک ایسا لمحہ ہے جب ہمیں ان شخصیات کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے اپنی ذات سے بڑھ کر معاشرے کو اہمیت دی۔ مادرِ مہربان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اقتدار کی عمر محدود ہوتی ہے، مگر خدمتِ خلق کی خوشبو نسلوں تک باقی رہتی ہے۔
بیگم اکبر جہاں عبداللہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی خدمات، ان کا وقار، ان کی شفقت اور ان کا عوامی کردار تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہی ایک باکردار انسان کی اصل کامیابی ہے کہ اس کی زندگی اختتام کے بعد بھی معاشرے کی رہنمائی کرتی رہے۔
اللہ تعالیٰ مادرِ مہربان بیگم اکبر جہاں عبداللہ کو اپنی بے پایاں رحمت میں جگہ عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی خدمت، اخلاص اور انسان دوستی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مضمون نگار:روزنامہ” نیو سٹیٹ رپورٹر ” سرینگر کے مدیر اعلیٰ ہے۔
ای میل:shahidrashid21@gmail.com
تبصرے بند ہیں.