The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

عصرِ حاضر کی خواتین اور توازنِ حیات

تحریر:..............رمشا محمدی کرناٹک

عصرِ حاضر میں عورت کے سامنے جو مسائل نمایاں صورت میں ابھر کر آئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ اہم مسئلہ اعلیٰ تعلیم کا حصول ہے۔ زمانہ بدل چکا ہے؛ وہ دور رخصت ہو گیا جب تعلیم اور روزگار کو محض مردوں کا حق سمجھا جاتا تھا۔ آج عورت کے لیے ہر سمت امکانات کے دروازے کھل چکے ہیں، بلکہ اکثر مواقع پر انہی دروازوں پر خواتین کا خیر مقدم مردوں سے زیادہ گرمجوشی سے کیا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی نرمی، اوقاتِ کار میں سہولت، مخصوص مراعات اور پیشہ ورانہ اعتماد نے عورت کے لیے تعلیم و ملازمت کا سفر مزید ہموار کر دیا ہے۔

چند دہائیاں قبل تک بیٹی کا ملازمت کرنا معاشرتی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات نے رخ بدل لیا ہے۔ آج کی بیٹیاں فخر سے کہتی ہیں کہ والدین نے ہم پر جو سرمایہ خرچ کیا، اب ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے بوجھ میں کمی کریں۔ والدین بھی اکثر اپنی بیٹیوں کی آمدنی کے عادی ہو گئے ہیں۔ یہی نہیں، ازدواجی معاملات میں بھی سوچ کا زاویہ یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب نوکری پیشہ لڑکی سسرال کے لیے فخر اور کشش کا باعث بن گئی ہے۔ جو بات کبھی لالچ سمجھی جاتی تھی، آج اسے فخر کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ “بیٹی خود مختار ہے، اپنے پاؤں پر کھڑی ہے، کسی کی محتاج نہیں۔”

میڈیکل، تدریس، اور انتظامی میدانوں میں خواتین کی نمایاں موجودگی اس تبدیلی کی گواہ ہے۔ پہلے لڑکیوں کے لیے مخصوص کوٹہ ہوتا تھا، اب اوپن میرٹ کے نظام نے ان کی تعداد ۷۵ تا ۸۰ فیصد تک پہنچا دی ہے۔ نجی اداروں کے پھیلاؤ اور بھاری فیسوں کے باوجود داخلے کے لیے ہزاروں درخواستیں ظاہر کرتی ہیں کہ خواتین میں علم کے حصول کا شوق بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم اس دوڑ نے ایک نیا دباؤ بھی پیدا کیا ہے— مسابقت، مادّی رجحان، اور کامیابی کی اندھی دوڑ نے تعلیم کے اصل مقصد کو کہیں پسِ منظر میں دھکیل دیا ہے۔

معاشی تقاضے، مادہ پرستی، اور سماجی نمائش نے عورت کو ملازمت کے میدان میں آنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدلتے فیشن، نئے تقاریب اور بڑھتی خواہشات نے “ضرورت” اور “شوق” کے درمیان کی لکیر کو دھندلا دیا ہے۔ ہر صبح تیار ہو کر دفتر جانا، گاڑی چلانا، اور گھریلو امور کے لیے ملازمین پر انحصار اب ایک نئے سماجی معیار کی علامت بن گیا ہے۔ یہ منظر بظاہر خوشنما سہی، مگر اس کے اثرات خاندان اور معاشرت دونوں پر دور رس ہیں۔

اس سارے منظرنامے میں ایک بنیادی سوال ابھر کر سامنے آتا ہے: اعلیٰ تعلیم کا مقصد آخر کیا ہے؟ کیا یہ محض معاشی خود مختاری کا ذریعہ ہے یا علم و شعور کے ارتقاء کا زینہ؟ تعلیم محض سند نہیں بلکہ شخصیت کا جوہر ہے۔ اگر نیت صرف معاشی برتری ہو تو تعلیم اپنی روح کھو دیتی ہے، لیکن اگر نیت اصلاحِ ذات، خدمتِ خلق، اور شعور کی روشنی پھیلانا ہو تو یہی تعلیم نور بن جاتی ہے۔

والدین اور سسرال دونوں کو چاہیے کہ وہ عورت کی تعلیمی خواہش کو ازدواجی زندگی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنائیں بلکہ اسے سہارا دیں۔ اگر لڑکی شادی کے بعد بھی تعلیم جاری رکھنا چاہے تو اس کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو نیت کو خالص رکھا جائے، مقاصد واضح ہوں، اور ہر قدم اسی روشنی میں اٹھایا جائے۔

تعلیمی اداروں میں مخلوط ماحول میں پڑھنے والی طالبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ پردے، سادہ لباس، اور وقار کو اپنا شعار بنائیں۔ آج کے دور میں جہاں فیشن اور نمود و نمائش نے اقدار کو کمزور کر دیا ہے، وہاں حیاء اور سادگی ہی وہ ڈھال ہے جو عورت کو اس کے اصل مقام پر برقرار رکھتی ہے۔

جامعہ کی فضا میں فارغ اوقات کا تعمیری استعمال طالبِ علم کے شعور کی پختگی ظاہر کرتا ہے۔ لائبریری کی خاموش فضا میں مطالعہ، غور و فکر اور تحقیق کے لمحات نہ صرف علم میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ کردار میں بھی سنجیدگی پیدا کرتے ہیں۔ سوشل ورک یا باہم مطالعے کے حلقے قائم کرنا اپنی اور دوسروں کی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ مرد اساتذہ اور ہم جماعتوں سے تعلق صرف ضرورت اور باوقار حدود کے اندر رہنا چاہیے، کیونکہ علم کی عظمت غیر ضروری میل جول سے کہیں زیادہ ہے۔

پیشہ ورانہ زندگی میں بھی یہی اصول رہنما ہونے چاہئیں۔ ملازمت کے انتخاب میں تنخواہ یا آسائش کو ترجیح دینے کے بجائے ادارے کے مقاصد، ماحول، اور ذمہ داریوں کے اخلاقی اثرات پر غور کرنا ضروری ہے۔ اوقاتِ کار، فاصلے اور گھریلو ذمہ داریوں کا توازن عورت کی دانش مندی کی علامت ہے۔ اپنی روزمرہ مصروفیات کو شوہر یا اہلِ خانہ سے شیئر کرنا اعتماد کو مضبوط کرتا ہے۔ یاد رکھیے، عزت اور کامیابی انہی کو حاصل ہوتی ہے جو اسلامی حدود اور سماجی اخلاقیات کی پاسداری کرتے ہیں۔

گھر عورت کی اصل مملکت ہے۔ شوہر کے لیے راحت، اولاد کے لیے تربیت، اور خاندان کے لیے خوشگواری — یہ سب عورت کی اصل کامیابیاں ہیں۔ گھریلو مہارتیں شادی سے پہلے سیکھ لی جائیں تاکہ عملی زندگی میں مشکلات پیش نہ آئیں۔ تعلیم، گھرداری، والدین کی خدمت اور دینی و سماجی ذمہ داریوں کے درمیان توازن پیدا کرنا عقل و شعور کی معراج ہے۔ جب نظم و ضبط اور محنت عادت بن جائے تو زندگی کے سارے کام آسان اور خوشگوار ہو جاتے ہیں۔

زندگی کے مختلف مراحل میں ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، اور عقلمند عورت وہی ہے جو وقت کے ساتھ اپنے فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لے۔ طرزِ زندگی میں سادگی، اخراجات میں اعتدال، اور دنیاوی شان و شوکت سے زیادہ اخلاقی اقدار کو فوقیت دینا ہی حقیقی آزادی کی ضمانت ہے۔ اپنے معاملات میں اہلِ علم اور تجربہ کار افراد سے مشورہ کرنا بصیرت کی نشانی ہے، کیونکہ تجربہ وہ علم ہے جو زندگی سکھاتی ہے۔

آخرکار عورت کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ تعلیم و روزگار کے تمام مراحل سے گزرتے ہوئے اپنے وقار، ایمان اور کردار کی حفاظت کر سکے۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، مگر جو عورت اپنی شناخت کو علم، اخلاق اور حیا کے نور میں محفوظ رکھتی ہے، وہی درحقیقت کامیاب اور تعلیم یافتہ کہلانے کی حق دار ہے۔

تبصرے بند ہیں.