- تحریر:……………………..میر ریحانہ
ڈیجیٹل عذاب: ‘اسمارٹ’ فون اور ‘ڈفر’ ہم!
آج کل کے دور میں انسان کا سب سے سچا رشتہ دار اس کا موبائل ہے۔ لوگ بیوی بچوں کو بھول سکتے ہیں، لیکن یہ بھولنا ناممکن ہے کہ موبائل کہاں رکھا ہے۔ اب تو حالت یہ ہے کہ اگر کسی کا انتقال ہو جائے اور لوگ اس کے قریب رو رہے ہوں، تو وہ اچانک اٹھ کر کہہ سکتا ہے: "بھائی! رونا دھونا بعد میں، پہلے میرا موبائل ‘فیکٹری ری سیٹ’ کر دو، کہیں گیلری کسی کے ہاتھ نہ لگ جائے!”
آج کل کے نوجوانوں کی ہمت تو دیکھیں! گھر میں بیوی ہے، چار پانچ بچے "ابو ابو” کرتے پیچھے گھوم رہے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر جناب کی پروفائل چیک کریں تو لکھا ہوتا ہے: "سنگل اینڈ ریڈی ٹو منگل”۔ ان کا بس چلے تو بچوں کو "پڑوسی کا” بتا دیں اور بیوی کو "دور کی رشتہ دار”! جب کوئی لڑکی ان باکس میں پوچھ لے کہ "یہ پیچھے شور کیسا ہے؟”، تو بڑے معصوم بن کر کہتے ہیں: "ارے کچھ نہیں، وہ گلی میں کچھ یتیم بچے کھیل رہے ہیں!”
پہلے زمانے میں محبت اندھی ہوتی تھی، اب محبت "آن لائن” ہوتی ہے۔ ایک لڑکے نے اپنی محبوبہ سے کہا: "میں تمہارے لیے چاند تارے توڑ لاؤں گا!” محبوبہ بولی: "وہ سب چھوڑو، بس اپنے موبائل کا پاس ورڈ بتا دو۔” لڑکا فوراً بولا: "دیکھو جان! تاروں کی بات اور تھی، پر پرائیویسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے!” سچی محبت کا معیار اب یہ ہے کہ جس نے پاس ورڈ بتا دیا، سمجھو اس نے اپنی جائیداد آپ کے نام کر دی!
باتھ روم اب وہ واحد جگہ بچی ہے جہاں انسان کو "تنہائی” ملتی ہے، لیکن وہاں بھی موبائل ساتھ ہوتا ہے۔ وہاں سے بندہ تب ہی باہر آتا ہے جب یا تو پاؤں سو جائیں یا پھر گھر والے دروازہ توڑنے کی دھمکی دے دیں۔ ایک صاحب دو گھنٹے بعد باتھ روم سے نکلے، بیوی نے پوچھا: "اندر مکان بنا رہے تھے کیا؟” شوہر بولا: "نہیں بیگم، وہ وائی فائی کے سگنل کم تھے، اس لیے پوزیشن سیٹ کر رہا تھا!”
آج کل ہوٹلوں اور شادیوں میں کھانا پیٹ کے لیے نہیں، بلکہ انسٹاگرام کے لیے آرڈر کیا جاتا ہے۔ ابا: "ٹھہر جا نالائق! ابھی لائٹنگ سیٹ نہیں ہوئی، پہلے تصویر کھینچ کر فیس بک پر ڈالنے دے، ورنہ لوگوں کو پتہ کیسے چلے گا کہ ہم ‘شاہی پنیر’ کھا رہے ہیں!” اگر بوٹی توڑنے سے پہلے فوٹو نہ لی جائے، تو معدے کو یقین ہی نہیں آتا کہ آج اسے کچھ نصیب ہوا ہے۔
رشتہ دار اب گھر کم اور آپ کے اسٹیٹس پر زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یہ آپ کے پیچھے ایسے پڑے ہوتے ہیں جیسے "سلو انٹرنیٹ” انسان کے پیچھے پڑ کر اس کا خون جلاتی ہے۔ آپ نے ادھر کوئی اداس شعر لگایا نہیں، ادھر خاندان میں ایٹم بم پھٹا نہیں! پھوپھی کا فون ایسے آئے گا جیسے سی آئی اے کا چھاپہ پڑ گیا ہو: "بیٹا! خیر تو ہے؟ کہیں ابا نے جائیداد سے تو نہیں نکال دیا؟” یہ وہ مخلص لوگ ہیں جو آپ کی خوشی میں "ٹانگ” اور اداسی میں "ناک” اڑانا اپنا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ ان کی اس "ایٹمی جاسوسی” سے بچنا اب دنیا کا ناممکن ترین کام بن چکا ہے۔
مگر اس ہنسی مذاق کے پیچھے ایک کڑوا سچ یہ ہے کہ اس موبائل نے ہمیں اپنوں سے بہت دور کر دیا ہے۔ ہم غیروں کے اسٹیٹس دیکھنے میں اتنے مگن ہو گئے ہیں کہ ہمیں اپنے والدین اور گھر والوں کا حال پوچھنے کی فرصت ہی نہیں رہی۔ یاد رکھیں! موبائل ٹوٹ جائے تو نیا مل جائے گا، مگر گزرے ہوئے لمحے اور ٹوٹے ہوئے رشتے کبھی واپس نہیں آتے۔ تھوڑی دیر کے لیے اس اسکرین کی دنیا سے باہر نکلیں اور ان لوگوں کو وقت دیں جو آپ کی توجہ کے اصل حقدار ہیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنوں کے پاس بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں۔
اگر اس تحریر سے آپ کو کچھ اچھا سیکھنے کو ملا ہو، تو براہِ کرم اسے لائک کریں، اپنی رائے کا اظہار کمنٹ میں کریں اور اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔ آپ کی حوصلہ افزائی ہمارے لیے قیمتی ہے۔
تبصرے بند ہیں.