The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

امرناتھ یاترا سے پہلے مرمت، پھر لاپرواہی! آخر یہ کھیل کب تک؟

ٹھیکیداروں کی لوٹ کھسوٹ منڈی-پونچھ شاہراہ کے نام پر کروڑوں ہڑپ؟ بیوروکریسی اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت! عوام نے لگائے سنگین الزامات

0

پونچھ/21 مارچ/توصیف رضا گنائی

منڈی-چنڈک شاہراہ جو کہ ایک لاکھ سے زائد آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ علاقے کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے، بدترین حالت میں پہنچ چکی ہے۔ گہرے گڈھے، ٹوٹے ہوئے کنارے، اور ناہموار سطح اس سڑک کو ایک خطرناک راستہ بنا چکے ہیں، مگر انتظامیہ عوام کی مشکلات سے بے خبر بنی ہوئی ہے۔

جیسے جیسے امرناتھ یاترا قریب آ رہی ہے، عوام ایک بار پھر اسی پرانے کھیل کی توقع کر رہے ہیں—ایک عارضی مرمت جس سے سڑک کو صرف ظاہری طور پر بہتر بنایا جائے گا تاکہ یاتریوں اور وی آئی پیز کو متاثر کیا جا سکے، جبکہ مقامی باشندے بدحالی کا شکار ہی رہیں گے۔

حیران کن طور پر، منڈی سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی رہنما اس علاقے سے منتخب ہونے کے باوجود اس سنگین مسئلے پر خاموش ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ رہنما صرف انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے سامنے آتے ہیں، مگر علاقے کی ترقی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ اسی طرح، بیوروکریٹس جو اکثر علاقے کا دورہ کرتے ہیں، وہ بھی اس سڑک کی خستہ حالی سے نظریں چرا کر نکل لیتے ہیں۔

یہ خستہ حالی صرف منڈی-پونچھ سڑک تک محدود نہیں۔ ساوجیاں، لورن اور منڈی تحصیل کی دیگر لنک سڑکوں کی صورتحال بھی اتنی ہی خراب ہے۔ عوام سوال کر رہے ہیں کہ آخر ان سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے مختص فنڈز کیسے اور کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ یہ بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ محکمہ تعمیرات عامہ (PWD) کے جونیئر انجینئرز (JEs) اور اسسٹنٹ انجینئرز (AEs) ٹھیکیداروں کے ساتھ ملی بھگت کر کے غیر معیاری کام کروا رہے ہیں، جبکہ فنڈز خورد برد کیے جا رہے ہیں۔

چند سال قبل اس سڑک کی توسیع کا کام شروع کیا گیا تھا، لیکن چند مخصوص مقامات پر کام کر کے فنڈز نکال لیے گئے، جبکہ باقی علاقے میں کوئی معیاری توسیع نہیں کی گئی۔ عوام اب CBI سطح کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کتنی رقم اس منصوبے کے لیے منظور کی گئی تھی، کہاں خرچ کی گئی، اور اس سنگین بدعنوانی کے ذمہ دار کون ہیں؟

یہ دھوکہ دہی گزشتہ سال بھی دہرائی گئی، جب یاترا سے کچھ دن پہلے اس سڑک پر مرمتی کام کے نام پر تقریباً 1 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے۔ تاہم، مرمت کے بجائے صرف مٹی ڈال کر کام مکمل دکھایا گیا، جو چند ہفتوں میں ہی بہہ گئی، اور سڑک دوبارہ اسی خراب حالت میں پہنچ گئی۔ یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ 1 کروڑ روپے کہاں گئے؟ کون اس کرپشن سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟

منڈی اور پونچھ کے عوام اب فوری اور مستقل حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ حکومت سے سخت کارروائی اور سڑک کی مکمل، معیاری مرمت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بار بار ہونے والی عارضی مرمت کی روایت ختم ہو۔ اگر انتظامیہ نے اس سنگین مسئلے کو نظرانداز کرنا جاری رکھا تو عوامی غصہ جلد ہی احتجاج اور قانونی کارروائی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے—کیا حکومت اس دیرینہ استحصال کو ختم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدام کرے گی، یا منڈی-پونچھ سڑک بدعنوان ٹھیکیداروں کے لیے کمائی کا ذریعہ اور عام شہریوں کے لیے ایک بھیانک خواب بنی رہے گی؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.