آپریشن سندور“ تاریخی فتح کی داستان لکھنے کیلئے ملک کو مسلح افواج پر فخر*
*دنیا نے دیکھا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی پاکستان کی طرف سے انجام دی گئی / منوج سنہا*
*پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد منصوبہ سازوں اور اعلی دہشت گردوں کو ہلاک کر کے مثالی سزا دی گئی*
سرینگر /15مئی / سی این آئی
پاکستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف آپریشن سندھور شروع کرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے پر ملک کو مسلح افواج پر فخر ہے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد منصوبہ سازوں کو ان کے دہشت گرد اڈوں کو ختم کر کے اور اعلی دہشت گردوں کو ہلاک کر کے مثالی سزا دی ہے۔ سی این آئی کے مطابق جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف آپریشن سندھور شروع کرکے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا بدلہ لینے پر ملک کو مسلح افواج پر فخر ہے ۔ لیفٹنٹ گورنر نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ان الفاظ کی بھی بازگشت کی کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہونے چاہئیں۔انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا ” قوم کو ہماری مسلح افواج پر فخر ہے کہ انہوں نے بہادری کے ساتھ ”آپریشن سندھور“ کی تاریخی فتح کی داستان لکھی اور پہلگام دہشت گرد حملے کا بدلہ لیا۔ انہوں نے پاکستان میں بیٹھے دہشت گرد منصوبہ سازوں کو ان کے دہشت گرد اڈوں کو ختم کر کے اور اعلی دہشت گردوں کو ہلاک کر کے مثالی سزا دی ہے۔ “ انہوں نے بادامی باغ میں فوج کے 15 کور ہیڈ کوارٹر میں وزیر دفاع کی فوجیوں کے ساتھ بات چیت کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ تقریب میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا ہے کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی پاکستان کی طرف سے انجام دی گئی ہے اور ہماری طاقتور افواج نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اب ہم پاکستان کے دل کی گہرائی میں داخل ہوں گے اور دہشت گردوں کو ہلاک کریں گے اور ہم دہشت گردی کی مستقبل کی کارروائیوں کو بھی جنگ کی کارروائی کے طور پر دیکھیں گے۔ منوج سنہا نے وزیر دفاع کے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو اپنی نگرانی میں لینے کے مطالبے کی تائید کی۔انہوں نے لکھا ”وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جی نے کہاکہ پاکستان کی جوہری بلیک میلنگ اب کام نہیں کرے گی اور اس کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں لے جانا چاہیے“۔
تبصرے بند ہیں.