چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کا اتحاد بھارت کی سلامتی کیلئے خطرہ
بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی اور چین کی جانب اس کے مبینہ جھکاؤ پر تشویش کا اظہار
فوجی سربراہ جنرل انیل چوہان کا انتباہ
نئی دہلی/09 جولائی/اے ٹی پی
چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) جنرل انیل چوہان نے چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو بھارت کی قومی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے اور بھارت کے اسٹریٹجک مفادات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل چوہان نے کہا کہ خطے کے بعض ممالک میں جاری معاشی بحران نے چین جیسی بیرونی طاقتوں کو اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے براہ راست چین کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے "قرض کی سفارت کاری” کے اشارے واضح تھے۔ انہوں نے خاص طور پر بنگلہ دیش میں حکومت کی حالیہ تبدیلی اور چین کی جانب اس کے مبینہ جھکاؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔سی ڈی ایس نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ برسوں میں اپنے دفاعی ہتھیاروں کا تقریباً 70 سے 80 فیصد چین سے حاصل کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کی گہرائی اور خفیہ معلومات کے ممکنہ تبادلے، حتیٰ کہ سیٹلائٹ امیجری کی شراکت داری، کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں۔جنرل چوہان نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان رونما ہونے والے محدود فوجی تنازعے "آپریشن سندور” کا بھی حوالہ دیا، جسے انہوں نے دو جوہری طاقتوں کے مابین براہ راست دشمنی کی پہلی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے اس موقع پر بھارت کی جوہری پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "پہلے استعمال نہ کرنے” کا اصول بھارت کو روایتی کارروائیوں میں اسٹریٹجک گنجائش فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی روایتی فوجی کارروائیوں میں اضافے نے درحقیقت اس کے جوہری اختیارات کو محدود کر دیا۔انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کسی بھی جوہری بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ہماری پالیسی قومی مفادات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔‘‘مستقبل کی جنگوں پر گفتگو کرتے ہوئے سی ڈی ایس نے کہا کہ جدید دور میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سائبر اور برقی مقناطیسی شعبے بھی شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مسلح افواج کی ہمہ وقت تیاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات میں 24 گھنٹے اور 365 دن آپریشنل تیاری ایک لازمی تقاضا بن چکی ہے۔
تبصرے بند ہیں.