The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

چیف جسٹس پر حملے کی کوشش، سپریم کورٹ میں سنسنی ۔وکیل موقع پر گرفتار سناتن دھرم کی توہین برداشت نہیں ہوگی۔چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے والے وکیل کا نعرہ

میں ان چیزوں سے پریشان نہیں ہوتا ہوں، حملے کی کوشش کے بعد چیف جسٹس بی آر گاوائی کا ردعمل

نئی دہلی/06 اکتوبر/ ( نیوز ڈیسک)

سپریم کورٹ میں پیر کے روز اس وقت سنسنی پھیل گئی جب ایک وکیل نے چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گاوائی کی سربراہی والی بنچ پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی۔ نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، وکیل نے چیف جسٹس پر جوتا پھینکا تاہم وہ بینچ تک نہیں پہنچا۔ عدالت میں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وکیل کو قابو میں کر لیا۔
عینی شاہدین کے مطابق اس واقعہ کے بعد وکیل زور سے چیخاتارہا ہندوستان سناتن دھرم کی توہین برداشت نہیں کرے گا!۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت میں موجود وکلاء سے کہا کہ وہ اپنے دلائل جاری رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسی باتوں سے پریشان نہ ہوں، میں بھی ان چیزوں سے پریشان نہیں ہوں۔ ان سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، گرفتار وکیل کی شناخت راکیش کشور کمار کے طور پر ہوئی ہے، جن کا سپریم کورٹ بار میں اندراج سال 2011 میں ہوا تھا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وکیل چیف جسٹس بی آر گاوائی کے اُن تبصروں سے ناراض تھے جو انہوں نے مدھیہ پردیش کے کھجوراہو میں بھگوان وشنو کے 7 فٹ اونچے مجسمے کی بحالی سے متعلق کیس میں کیے تھے۔دریں اثنا، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے ملزم وکیل راکیش کشور کمار کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔
چیف جسٹس نے 16؍ستمبر کو مندر میں مورتی کی بحالی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ جاؤ اور خدا سے یہ کام خود کرنے کو کہو۔ اگر آپ بھگوان وشنو کے سچے بھکت ہیں تو ان سے دعا کرو۔درخواست گزار نے فیصلے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق مورتی کو مغل حملوں کے دوران نقصان پہنچا تھا اور وہ تب سے ٹوٹی ہوئی حالت میں ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت مورتی کی بحالی اور عقیدت مندوں کے پوجا کے حق کے تحفظ کے لیے مداخلت کرے۔18؍ستمبر کو احتجاج کے بعد چیف جسٹس نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ریمارکس کو سوشل میڈیا پر غلط معنی پہنائے گئے۔ انہوں نے کہاکہ میں تمام مذاہب کا احترام کرتا ہوں۔
بنچ میں شامل جسٹس کے ونود چندرن نے بھی سوشل میڈیا کو غیر ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ ان کے تبصرے کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔اسی دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں انہیں دس سال سے جانتا ہوں۔ وہ تمام مذہبی مقامات کا احترام کرتے ہیں۔ آج کل سوشل میڈیا پر ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل نے بھی اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے منفی بیانات وکلاء اور ججوں کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔وی ایچ پی کے قومی صدر آلوک کمار نے ایکس (X) پر اپنے ردعمل میں کہاکہ عدالتیں انصاف کا مندر ہیں۔
ہندوستانی سماج کا ان پر گہرا اعتماد ہے۔ ہمیں اپنی تقریر میں خاص طور پر عدالت میں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، یہ ذمہ داری وکلاء، فریقین اور ججوں تینوں پر عائد ہوتی ہے.

تبصرے بند ہیں.