The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

انور بانو کا انسانیت سوز قتل —اجتماعی غفلت کی جیتی جاگتی مثال

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نصرت جبین چاڈورہ بڈگام

انور بانو کا انسانیت سوز قتل —اجتماعی غفلت کی جیتی جاگتی مثال

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نصرت جبین چاڈورہ بڈگام

 

 

  • 4 مئی کا دن کشمیری تاریخ میں ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب نشاط کے علاقے میں ایک نہایت افسوسناک اور دردناک واقعہ پیش آیا۔ ایک 45 سالہ خانہ بدوش گجر بکروال خاتون، انور بانو، جو اپنی بکریوں کو چراگاہ کی طرف لے جا رہی تھی، درندگی کا شکار ہو گئی۔ چار بھیڑیوں جیسے درندہ صفت انسانوں نے نہ صرف اُس معصوم عورت کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ ظلم کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ بھی اتار دیا۔

یہ واقعہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ انسانیت کا قتل ہے، کشمیری اقدار اور روایات کا قتل ہے۔ یہ ہمارے سماجی نظام، تربیتی خلا اور قانون کی کمزوریوں پر ایک طمانچہ ہے۔

 

گجر بکروال قوم کی زندگی چونکہ جدوجہد کی ایک انوکھی کہانی ہے۔ کیونکہ اس قوم کو اپنے زریعہ معاش اور روزی روٹی کیلئے ہمیشہ یہاں سے وہاں اور ادھر سے ادھر بٹکھنا پڑتا ہے۔

 

گجر بکروال برادری صدیوں سے کشمیر اور جموں کے درمیان موسمی ہجرت کرتی ہے، اپنی زندگی مال مویشیوں پر انحصار کرتے ہوئے گزارتی ہے۔ یہ برادری ہر سال کئی مشکلات کا سامنا کرتی ہے، کبھی ان کے جانور سڑکوں پر کچلے جاتے ہیں، کبھی ان کے خیمے جلائے جاتے ہیں، کبھی ان کے بچوں کو مارا جاتا ہے، تو کبھی معصوم بیٹیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے — جیسے 2018 میں آصفہ کے ساتھ ہوا تھا، اور اب 2025 میں انور بانو کے ساتھ سرینگر میں یہ دلدوز اور انسانیت سوز واقعہ رونما ہوا۔

 

ان جرائم کی بنیادی وجوہات معاشرتی اور اتنظامی ناکامی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ان مظالم کی جڑیں گہری اور پیچیدہ ہیں۔ نشہ، خاص طور پر شراب اور دیگر منشیات کا کھلے عام استعمال، ہماری نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے کی طرف لیجا رہا ہے۔ جب ریاستی انتظامی مشینری اس کے سدباب میں ناکام ہو، تو انجام ایسے ہی سانحات کی صورت میں سامنے آتے ہیں ۔ والدین کی ناقص تربیت، معاشرتی بگاڑ، اخلاقی زوال، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بےحسی نے اس ظالموں کی راہیں ہموار کیں۔ جوکہ بنا خوف وخطر ایسے دل ہلا دینے والے واقعات دن کی روشنی میں انجام دیکر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹھینگا دیکھاکر چلا جاتے ہیں، شکر اللہ کا کہ اس بار پولیس نے چوکسی دیکھا کر اس گھناؤنے جرم میں ملوث لوگوں کو جلد پکڑ کر سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا۔

مقتول انور بانو کے معصوم بچوں کی صرف یہی پکار ہے کہ ان کے ماں کے ساتھ ہوئی درندگی اور حیوانیت میں ملوث درندہ صفت مجرموں کو کیفر کردار تک جلد از جلد پہنچا کر انہیں انصاف ملے۔

مقتول انور بانو کی بیٹیاں آج اپنی ماں کو ہی نہیں بلکہ اپنی محافظ، اپنی رہنما اور اپنے مستقبل کی امید بھی کو بھی کھوچکی ہیں۔ اس بھیانک سانحے کے ان معصوم بچیوں کے ذہن پر جو اثرات ہوں گے، ان کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ کیا وہ کبھی اعتماد کے ساتھ کسی مرد سے نظریں ملا سکیں گی؟ کیا وہ اس معاشرے کو اپنا سمجھ سکیں گی جس نے ان سے اُن کی ماں چھین لی؟

 

آخر پر ہماری حکومت سے یہی اپیل ہے کہ وہ "بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ”، کو اب صرف نعرے تک ہی محدود نہ رکھے بلکہ اسے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انور بانو کے قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دے کر ایک مثال قائم کی جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ ایسی حرکت سے پہلے سو بار سوچے۔

المختصر انور بانو اب اس دنیا میں نہیں، لیکن اُس کا خون ہر ذی شعور انسان کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم صرف ماتم نہ کریں بلکہ اپنی اجتماعی غفلت کو قبول کرتے ہوئے تبدیلی کی بنیاد رکھیں۔ انصاف صرف انور بانو کے لیے نہیں، بلکہ پوری گجر بکروال قوم، کشمیری معاشرے اور انسانیت کے لیے ضروری ہے۔

تبصرے بند ہیں.