The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

معروف سماجی کارکن میمونہ قریشی نے گاندربل میں معصوم بچی کے وحشیانہ قتل پر گہرے رنج اور افسوس کا کیا اظہار 

 

 

گاندربل/20 اگست/این ایس آر

 

معروف سماجی کارکن میمونہ قریشی نے اس 14 سالہ بچی کے المناک قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے جس کی لاش بٹسر–سیہ پورہ روڈ سے برآمد ہوئی۔

 

میمونہ قریشی نے کہا:

“یہ دل دہلا دینے والا واقعہ گاندربل ہی نہیں بلکہ ہر گھر کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والا ہے۔ ایک کمسن جان، جو امکانات سے بھری ہوئی تھی، وقت سے پہلے بجھ گئی—یہ ایک عظیم سانحہ ہے۔ اور یہ کہ اس واقعے میں اُس کی اپنی بہن کی گرفتاری سامنے آئی ہے، اسے مزید دلخراش اور عبرتناک بناتا ہے، جو ہمیں اپنے اندر جھانک نے پر مجبور کرتا ہے۔”

 

انہوں نے جموں و کشمیر پولیس کی بروقت کارروائی کی سراہنا کی اور امید ظاہر کی کہ عدالتی عمل منصفانہ اور حساس طریقے سے آگے بڑھے گا تاکہ متاثرہ بچی کو انصاف مل سکے۔

 

تاہم، قریشی نے اس بات پر زور دیا کہ اس سانحے کو صرف ایک پولیس کیس سمجھ کر آگے بڑھ جانا، بچی کی یاد اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ انہوں نے کہا:

“یہ محض ایک جرم نہیں بلکہ ہمارے گھروں اور سماج میں چھپی ایک بڑی بیماری کی علامت ہے۔ ہمارے گھروں کو انصاف اور شفقت کا گہوارہ ہونا چاہئے، جہاں ہر بچہ برابر طور پر پیار اور توجہ محسوس کرے۔”

 

میمونہ قریشی نے والدین اور سرپرستوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ مندرجہ ذیل نکات پر عمل کریں:

 

انصاف اور برابری: بچوں کے درمیان پسند و ناپسند اور تقابل سے گریز کریں۔

 

کھلا مکالمہ: گھروں کو محفوظ بنائیں تاکہ بچے بلا خوف اپنی بات والدین سے کہہ سکیں۔

 

معافی کی تعلیم: بچوں کو حکمت اور رحم کے ساتھ سنبھالیں، معافی اتحاد اور ہمدردی کو مضبوط کرتی ہے۔

 

بھائی بہن کا رشتہ مضبوط کریں: بچوں کو ایک دوسرے کا سہارا اور ساتھی بنائیں، نہ کہ حریف۔

 

 

قریشی نے کہا:

“یہ سانحہ ایک سنگ میل ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے بچوں کی جذباتی اور نفسیاتی پرورش پر اتنی ہی توجہ دینی ہوگی جتنی ہم اُن کی جسمانی صحت پر دیتے ہیں۔”

 

آخر میں انہوں نے جاں بحق بچی کے لیے دعا اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی اور سماج سے اپیل کی کہ وہ اپنی سب سے قیمتی ذمہ داری—اپنے بچوں—کے تحفظ کے لئے نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھے۔

تبصرے بند ہیں.