The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

تاریخ کا حقیقی رخ.۔۔۔جنگ ازادی اور مسلمانوں کا کردار

0

تحریر : ناہیدہ ملک

وطن عزیز ہندوستان کی خاطر مسلمانوں نے اپنی دولت اپنا سرمایہ اپنے پریوار کا نظرانہ پیش کر دیا مسلمان پھانسی جلاوطنی گھروں کی نیلامی سے دوچار ہوئے وہ مسلسل انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرتے رہے یہاں تک کہ 1947 عیسوی میں ملک انگریزوں کی غلامی سے ازاد ہو گیا ہندوستان کی ازادی میں سبھی قوموں نے جان کی بازی لگائی لیکن مسلمانوں کی قربانیاں سب سے زیادہ ہیں دہلی کے چاندنی چوک سے پشاور تک درختوں پر علماء کی گردنیں اور جسم لٹکتے ہوئے ملتے تھے اور روزانہ 80 کے قریب علماء پھانسی پر لٹکائے جاتے تھے اور یہ ختم نہ ہونے والی ایک لمبی فہرست ہے جس کا اعتراف انصاف پسند انگریز اور ہندوستانی مصنفین نے بھی کیا ہے ہندوستان میں ہر مذہب کا رہنے والا شخص ہندوستان کا مالک ہے اور ہندوستان ہم سب کی سانجھی وراثت ہے۔ہندوستان کی آزادی میں انگریزوں کےخلاف جنگ کرنے کا سب پہلے فتوی ایک مسلمان عالم نے دیا۔ انگریز کی فوج میں بھرتی ہونے کو ایک مسلم نے حرام قرار دیا تھا۔
ہم اپنی سانسیں تیرے نام کرتے ہیں
اے وطن ہم تیری عظمت کو سلام کرتے ہیں
مگر اب ہندوستان بکھر رہا ھے مذہب کے نام پر جس مئی پے سب اپنا کچا گھر بنا لیتے تھے اب وہ مٹی مسلمان کی الگ اور ہندو کی الگ دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔یہ کون لوگ ہیں اور کس مذہب کے ماننے والے ہیں جنھیں نمازیوں سے نفرت ھے مسلمانوں سے کدورت ہے؟
مسلمانیت نہیں پسند تو نہ سہی، ہندوستان کے رنگ پسند نہیں تو نہ سہی لیکن کم سے کم ہندوستان کی یکجتی کی پاسداری تو کرو۔ میری گذارش ہے اُن ہندو بھائیوں سے جو نفرت پھیلا رہے ہیں اور ہندوستان میں بنی ہر مسجد کی تہہ میں مندر ڈھونڈھ رہے ہیں تو اپنے اندر ڈھونڈو، رام کو تلاش کرنا ہے تو اپنے دل میں تلاش کرو اور یاد رکھیں کہ اگر ہم مسلمان آپ کے رام سے نفرت کریں گے تو ہم اپنے خدا سے محروم ہو جائیں گے اور اگر آپ ہمارے اللہ سے نفرت کریں گے تو رام کو آپ کبھی نہ پا سکیں گے۔ آپ کی نفرت کی آگ میں ہم اور آپ سب جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ بقول راحت اندوری:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کے گھر زد میں
یہاں پے صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
ہندوستان کی تاریخ میں آپ کیسے فراموش کر سکتے ہیں مولانا ابوالکلام ازاد کی خدمات کو؟ آپ کس طرح بھول سکتے ہیں تحریک ریشمی رومال کو؟ آپ کیسے منہ موڑ سکتے ہیں محمد علی جوہر کی کاوشوں سے، آپ گاندھی کو کیسے بھولیں گے جن کے خون کا آخری قطرہ بھی اس ملک پر قربان ہو گیا؟ آپ کو یاد رہا تو صرف چندر شیکھر آزاد، آپ کو یاد رہا تو صرف پٹیل اور ساورکر۔ ہم ان لوگوں کی جدو جہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں لیکن نہرو، گاندھی، آزاد کے سامنے ان کی قربانیاں ایسے ہیں جیسے ہاتھی کے متصل مچھر کا پر ۔ایک تخمینے کے مطابق ہندوستان کی تحریک ازادی میں کل ایک لاکھ بائیس ہزار قربانیاں لگیں تھیں جن میں سے 86 ہزار مسلمان قربان ہوئے۔ جب یہ تحریک شروع ہوئی تو صرف دہلی کے اندر پانچ سو مدارس تھے اور جب ہندوستان ازاد ہوا تو دہلی کے اندر ایک بھی مدرسہ موجود نہیں تھا۔ تمام مدارس کو نظر اتش کر دیا گیا اور ان گنت علمائے دین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اگر اپ ہندوستان کی تحریک ازادی سے مسلمانوں کی خدمات اور قربانیوں کو نکال دیں گے تو اپ کے پاس کچھ باقی نہیں رہے گا۔
اگر لڑنا ہے تو غربت کے خلاف لڑیں۔ناانصافی کے خلاف لڑیں، بڑھتی ہوئی رشوت خوری کے خلاف لڑیں، ہندوستان میں ہر غریب کو روٹی کپڑا مکان دینے کی کوشش کریں۔ فساد کرنے والا ہندوستانی نہیں ہو سکتا۔ آئین مل جل کر رہیں ۔ایک دوسرے کے مذاہب اور عقائد کی عزت کریں ایک دوسرے سے پیار کریں اور سر زمین ہندوستان پر امن کو قائم رکھیں ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.