گورنمنٹ ہائی اسکول آبلی ماسری میں اساتذہ کی عدم موجودگی کے خلاف مقامی افراد سراپا احتجاج
ضلع انتظامیہ ٹس سے مس نہیں، والدین فریاد کریں تو کس سے
ڈوڈہ/29 مارچ/راہی نواز لون
ضلع ڈوڈہ کی تحصیل گندنہ کے گاؤں آبلی ماسری کے طلباء اور مقامی لوگوں نے دو اساتذہ کی طویل عرصے سے غیر حاضری پر شدید احتجاج کیا ۔مقامی لوگوں کے کہنے کے مطابق شفقت حسین زرگر (ماسٹر گریڈ) اور فیاض احمد وانٹ نامی دو اساتذہ مزکورہ ہائی اسکول سے طویل عرصے سے غائب ہیں ۔ دونوں منظور نظر اساتذہ صاحبان کی غیر حاضری طلباء کی تعلیم کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ عرصہ 2 سال سے انہوں نے متعلقہ حکام کے سامنے کیئ بار شکایت بھی درج کی لیکن ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی گئی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں اساتذہ کی انتظامیہ پر سخت گرفت ہے ، اسی وجہ سے وہ بے گناہ طلباء کی زندگی برباد کر رہے ہیں ، طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں اور اس مشن میں انتظامیہ ان کو بچا رہی ہے۔مقامی لوگوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال مزکورہ اسکول میں ضلع ترقیاتی کمشنر ڈوڈہ کے دورے کے باوجود اسکول سے دو اساتذہ غایٔب ہیں اور مسلسل شکایات کے باوجود ضلع انتظامیہ کو ٹس سے مس نہیں۔
گاؤں کے مقامی اور طلباء ایک بار پھر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی درخواست کے ذریعے ڈی سی ڈوڈہ اور سی ای او ڈوڈہ سے اپیل کرتے ہیں کہ دونوں اساتذہ کو ممکنہ وقت کے اندر مزکورہ اسکول میں اپنے فرائض انجام دینے کے لیے بھیجیں بصورت دیگر مقامی لوگ اپنے بچوں سمیت گندنہ سے پیدل مارچ کر کے ضلع ہیڈکوارٹر ڈوڈہ میں شدید احتجاج کریں گے اور اس کی زمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہو گی