پونچھ/یکم اپریل/توصیف رضا گنائی
سرحدی ضلع پونچھ میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ بزرگوں، خواتین، بچوں اور معذور افراد کے لیے سڑکوں پر چلنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آوارہ کتے تقریباً ہر چوک، گلی اور بازار میں نظر آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کا باہر نکلنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف رات تک محدود نہیں بلکہ دن کے وقت بھی لوگ ان کتوں کے جارحانہ رویے کی وجہ سے غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ کئی رہائشی، جن میں ایک نوجوان عبد الرحمان بھی شامل ہیں، نے میڈیا سے رابطہ کر کے اپنی پریشانی کا اظہار کیا اور حکام سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سابق ڈپٹی کمشنر یاسین چوہدری کے دور میں میونسپلٹی نے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن مہم شروع کی تھی، لیکن ان کا الزام ہے کہ یہ مہم محض دکھاوا تھی، کیونکہ اس کے بعد کتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ مہم واقعی مؤثر ہوتی تو آوارہ کتوں کی تعداد اتنی تیزی سے نہ بڑھتی۔
عوامی غم و غصہ انتظامیہ کی مبینہ ناکامی کے خلاف شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایک مقامی دکاندار نے کہا، “ایسا لگتا ہے کہ پچھلی نس بندی مہم صرف اخبارات کی سرخیوں تک محدود تھی، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہم دن کے وقت بھی محفوظ طریقے سے نہیں چل سکتے، رات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
پونچھ کے شہری موجودہ ڈپٹی کمشنر وکاس کنڈل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پچھلی ناکام نس بندی مہم کی تفصیلی تحقیقات کروائیں اور فوری طور پر آوارہ کتوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، جن میں مناسب نس بندی، ویکسینیشن اور ان کی محفوظ منتقلی کے انتظامات شامل ہوں۔