The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

نالیاں گاؤں آزادی کے 78 برس بعد بھی بجلی جیسی بنیادی سہولیت سے محروم

 ان پسماندہ اور غریب لوگوں کی آواز کیا کبھی سنی جائے گی؟

 

سنگلدان/12 جون/راہی ریاض

 

حلقہ پنچایت: اپر سمبڑ، وارڈ نمبر 6، ضلع رام بن : آزادی کو 78 برس بیت چکے ہیں، لیکن جدید ہندوستان کے ترقی یافتہ دعووں کے درمیان ضلع رام بن کا نالیاں گاؤں آج بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ حلقہ پنچایت اپر سمبڑ کے وارڈ نمبر 6 میں واقع اس گاؤں کو آج تک بجلی جیسی بنیادی سہولت نصیب نہیں ہو سکی۔

 

نالیاں گاؤں میں بیشتر مکانات مٹی کی چھتوں اور کچے ڈھانچوں پر مشتمل ہیں۔ ان گھروں میں رہنے والے لوگ آج بھی چراغوں اور لکڑی کے دھوئیں پر گزارا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ محض 500 میٹر کے فاصلے پر بجلی کی ترسیل کا نظام موجود ہے، لیکن نالیاں کے رہائشی اب تک اس روشنی سے محروم ہیں۔

 

مقامی افراد کے مطابق وہ متعدد بار محکمہ بجلی اور پنچایتی نمائندوں سے رابطہ کر چکے ہیں، درخواستیں دے چکے ہیں، حتیٰ کہ تصاویر بھی بھیجی ہیں، مگر انہیں صرف وعدے اور تسلیاں ہی ملی ہیں۔

 

مظفر حسین کا کہنا ہے:

 

> "ہم نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن شاید ہماری آواز ان ایئرکنڈیشنڈ دفتروں تک نہیں پہنچتی جہاں ہمارے فیصلے کیے جاتے ہیں۔”

بجلی کی عدم دستیابی صرف روشنی کی کمی نہیں، بلکہ اس کا اثر بچوں کی تعلیم، کسانوں کی زراعت، خواتین کی گھریلو زندگی اور روزگار جیسے شعبوں پر گہرا پڑ رہا ہے۔ اسکول جانے والے بچے شام کے وقت پڑھائی نہیں کر پاتے، کسان موٹر پمپ نہ ہونے کی وجہ سے آبپاشی کے لیے پریشان ہیں، اور خواتین کو روزمرہ کے کاموں میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

نالیاں گاؤں کے عوام حکومتِ جموں و کشمیر، ضلعی انتظامیہ اور خصوصاً ڈی ڈی سی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد شان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فوری کارروائی کریں تاکہ اس علاقے کو بھی بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔

اگر محض آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر بجلی پہنچ چکی ہے، تو نالیاں کو اس حق سے محروم رکھنا انصاف کے منافی ہے۔

سوال وہی ہے:

کیا اب بھی کوئی سنے گا؟ یا نالیاں گاؤں صرف انتخابی وعدوں کا شکار بنتا رہے گا ۔

تبصرے بند ہیں.