سندھ طاس معاہدہ کھبی بحال نہیں کیا جائے گا/ بھارت
اس پانی کو نہر کے زریعے راجھستان کی طرف موڈا جائے گا/امیت شاہ
نئی دہلی/21 جون/ایجنسیاں
مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ نئی دہلی حکومت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کبھی بھی بحال نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جانے والا پانی اندرون ملک استعمال کے لیے موڑ دیا جائے گا۔
امت شاہ نے اصرار کیا کہ سمدھ طاس معاہدے کی بحالی کبھی بھی ممکن نہیں ہو گی۔
ان باتوں کا اظہار مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتے کے دن ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دہرایا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان جانے والا پانی بحال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس معاہدے کی بحالی کبھی بھی ممکن نہیں ہو گی۔
بھارت نے سن 1960 میں طے پانے والے اس معاہدے کو اس وقت ”معطل‘‘ کر دیا تھا، جب جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں 26 شہری مارے گئے تھے۔
نئی دہلی نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کی جبکہ اسلام آباد حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
اگرچہ پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی لیکن دونوں ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان گزشتہ ماہ دہائیوں کے بدترین تصادم کے بعد جنگ بندی کے باوجود یہ معاہدہ اب بھی معطل ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بھارت سے نکلنے والے تین دریاؤں سے 80 فیصد زرعی پانی کی ضمانت حاصل تھی۔
امیت شاہ نے کہا، ”نہیں، یہ معاہدہ کبھی بحال نہیں ہو گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ”وہ پانی جو پاکستان جا رہا تھا، ہم اسے ایک نہر بنا کر راجستھان کی طرف لے جائیں گے۔ پاکستان کو وہ پانی نہیں ملے گا جس کا وہ ناحق فائدہ اٹھا رہا تھا۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ کے سب سے طاقتور وزیر سمجھے جانے والے سیاستدان امیت شاہ کے اس بیان سے مستقبل قریب میں اس معاہدے پر مذاکرات کی اسلام آباد کی امیدوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔
گزشتہ ماہ روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ بھارت اُس بڑے دریا سے اندرون ملک پانی کی مقدار میں زبردست اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جو پاکستان کے کھیتوں کو سیراب کرتا ہے۔ جس سے پاکستان کا ایگریکلچر سیکٹر کو زبردست دھچکا لگ سکتاہے۔(رائٹرز)
تبصرے بند ہیں.