The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

ٹیرف کے بعد ٹرمپ کا دہلی دورہ منسوخ کواڈ اجلاس میں بھی نہیں کریں گے شرکت نیویارک ٹائمز کا دعویٰ 

ٹیرف کے بعد ٹرمپ کا دہلی دورہ منسوخ

کواڈ اجلاس میں بھی نہیں کریں گے شرکت

نیویارک ٹائمز کا دعویٰ

 

واشنگٹن/ 31 اگست/

۔مریکہ اور بھارت کے بیچ تعلقات مزید کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے کے بعد اپنا دہلی دورہ منسوخ کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کا کواڈ سمٹ میں بھی بھارت کا دورہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ٹرمپ نے اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کو سال کے آخر میں بھارت آنے کی جانکاری دی تھی لیکن اب انہوں نے یہ منصوبہ ملتوی کر دیا ہے۔ فی الحال اس معاملے پر بھارت اور امریکہ کی حکومتوں کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔بھارت اس سال کے آخر میں کواڈ سمٹ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ جنوری میں ہی ٹرمپ انتظامیہ نے کواڈ وزرائے خارجہ کی میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تجارتی کشیدگی اور ٹرمپ کے بھارت کے خلاف مسلسل بیانات کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات خراب ہونے لگے۔

 

ٹرمپ اور مودی کے درمیان تنازع کی وجہ؟

 

ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے بیچ چار روزہ فوجی تنازع کو حل کرنے میں مدد کی۔ بھارت ان دعوؤں کو مسترد کرتا آیا ہے۔ 17 جون کو دونوں رہنماؤں کے درمیان 35 منٹ کی فون کال ہوئی۔ یہ کال اس وقت ہوئی جب ٹرمپ کینیڈا میں G-7 سربراہی اجلاس سے واپس آرہے تھے۔ کانفرنس کے دوران آمنے سامنے ملاقات ہونی تھی لیکن ٹرمپ جلد ہی واپس امریکہ چلے گئے۔سکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا کہ پی ایم مودی نے ٹرمپ پر واضح کیا کہ نہ تو امریکہ اور بھارت کے بیچ تجارتی معاہدے پر کوئی بات چیت ہوئی ہے اور نہ ہی پاک بھارت تنازع میں امریکہ کی کوئی ثالثی ہے۔ جنگ بندی کی بات چیت صرف بھارت اور پاکستان کے فوجی چینلز کے ذریعے ہوئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے پھر بھی جنگ ختم کرنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی اور دعویٰ کیا کہ پاکستان انہیں امن کے نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا چاہتا ہے۔ مودی نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ اس اختلاف نے دونوں رہنماؤں کے درمیان تناؤ بڑھا دیا۔

 

بھارت پر محصولات اور تجارتی کشیدگی

 

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام پالیسی سے زیادہ تعزیری ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں بھارتی امور کے ماہر رچرڈ روسو نے کہا کہ ہندوستان کو الگ سے نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ صرف روس سے متعلق نہیں ہے۔اخبار نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب ٹیرف مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ نے کئی بار پی ایم مودی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن مودی نے کالوں کا جواب نہیں دیا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں امریکہ بھارت تعلقات میں کشیدگی بڑھنے کا عندیہ ہے۔ 50 فیصد ٹیرف اور ٹرمپ کی جانب سے دہلی دورہ منسوخ کرنے کے فیصلے نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تلخی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.