فیس بک پر اپنے ایک دوست کی پوسٹ پر نظر پڑی جس میں لکھا تھا کہ ایک مولوی صاحب نے کہا ہے کہ شراب پینے والا شاعر مشاعرے میں نہ بلایا جائے، کیونکہ وہ مشاعرے کی فیس سے جا کر شراب خریدے گا۔ بات تو ٹھیک ہے، آخر مشاعرہ کوئی شراب خانہ تو ہے نہیں! لیکن پھر سوچا کہ اگر شرعی پیمانے لگائیں تو مشاعرے کا پورا ڈھانچہ ہی ڈھ جائے گا۔ آئیے، اس جواز کی روشنی میں کچھ اور جواز ڈھونڈتے ہیں کہ مشاعرہ کیسے "شرعی” بنایا جائے،
سب سے پہلے تو خواتین شاعرات کا معاملہ۔ مولوی صاحب کے منطق کے مطابق اگر شراب پینے والا شاعر ناجائز ہے تو پھر خواتین شاعرات کو بھی مشاعرے میں کیوں بلایا جائے؟ وہ میک اپ کر کے آتی ہیں، جو کہ شرعی طور پر "خود نمائی” کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ پھر وہ مرد شعرا کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر بیٹھتی ہیں، جو کہ "اختلاط” کا باعث بنتا ہے۔ اور تو اور، اسلام میں تو آواز کا پردہ بھی ہے! جب شاعرہ اپنا کلام پڑھتی ہے، تو اس کی آواز مردوں کے کانوں تک جاتی ہے، جو کہ مولوی صاحب کے معیار کے مطابق شاید "فتنہ” کا باعث ہو۔ لہٰذا، خواتین شاعرات پر پابندی لگائی جائے!
اب مرد شعرا کی باری۔ کچھ شاعر تو عشقیہ شاعری پڑھتے ہیں، جو کہ "غیر شرعی جذبات” کو ابھار سکتی ہے۔ مثلاً، "تیری زلفوں کے سائے میں دل میرا کھو گیا” جیسے شعر سن کر سامعین کے دل میں کیا کیا خیالات آ سکتے ہیں؟ یہ تو سیدھا سیدھا "فساد فی الارض” کا معاملہ بنتا ہے! پھر کچھ شاعر اپنے کلام میں "محبوب” کا ذکر کرتے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کرتے کہ وہ محبوب "حقیقی” ہے یا "مجازی”۔ اگر مجازی ہے تو ٹھیک، لیکن اگر حقیقی ہے تو پھر یہ "غیر شرعی محبت” کی ترویج ہے۔ لہٰذا، عشقیہ شاعری پر بھی پابندی ہونی چاہئے!
اب آتے ہیں مشاعرے کے انعامات کی طرف۔ مولوی صاحب نے تو فیس سے شراب خریدنے کا خدشہ ظاہر کیا، لیکن اگر شاعر نے وہ پیسے میک اپ، کپڑوں، یا پھر "غیر شرعی” سرگرمیوں پر خرچ کئے تو؟ اس لئے بہتر ہے کہ مشاعرے میں نقد انعامات کی بجائے "حلال سرٹیفکیٹس” دیئے جائیں، جو صرف حلال اشیا کی خریداری کے لئے استعمال ہوں۔ مثلاً، ایک شاعر کو دس کلو چاول یا پانچ لیٹر زیتون کا تیل بطور فیس دی جائے!
آخر میں، مشاعرے کے منتظمین کا کیا؟ وہ تو ٹکٹ بیچ کر پیسے کماتے ہیں، اور پتا نہیں وہ پیسے کہاں خرچ کرتے ہیں۔ اگر وہ پیسے کسی "غیر شرعی” کام میں لگ گئے تو؟ لہٰذا، بہتر ہے کہ مشاعرہ مفت ہو، اور سامعین اپنی مرضی سے "صدقہ” دیں، جو کہ صرف خیراتی کاموں میں استعمال ہو۔
مشاعرہ کے منتظمین کو میرا مشورہ:
مولوی صاحب کے فتویٰ نما جواز کی روشنی میں مشاعرے کو "شرعی” بنانے کے لئے چند جواز پیش خدمت ہیں، تاکہ شاعری کا یہ "گناہوں بھرا” میلہ بالکل پاک صاف ہو جائے!
شاعر کے کپڑوں کا معاملہ: کچھ شاعر مشاعرے میں جدید لباس پہن کر آتے ہیں جیسے جیکٹ، ٹائی، یا پھر رنگین کرتے۔ یہ تو مغربی تہذیب کی نقالی ہے! اور اگر شاعرہ نے چمکدار دوپٹہ یا ساڑی پہنی تو یہ "توجہ طلب” لباس ہوا۔ شرعی طور پر سب کو سادہ سفید کرتا پاجامہ یا برقعہ لازمی کر دینا چاہیئے ۔کوئی رنگ برنگی شاعری یا لباس نہیں، بس "سادگی ہی ایمان”!
شاعری کی زبان کا فتنہ: اردو شاعری میں لفظ جیسے "مے کشی”، "ساغر”، یا "مے خانہ” عام ہیں۔ اب یہ تو سیدھا شراب کی طرف اشارہ کرتے ہیں، چاہے شاعر نے کبھی شراب کو ہاتھ نہ لگایا ہو! پھر کچھ شعرا "حسن” اور "حسینہ” کا ذکر کرتے ہیں، جو کہ "غیر شرعی جذبات” کو بھڑکا سکتے ہیں۔ تو بہتر ہے کہ شاعری صرف دینی موضوعات تک محدود ہو، مثلاً "مسجد کی چھت” یا "وضو کے فوائد” پر غزلیں لکھی جائیں!
مشاعرے کی نشستوں کا شرعی جھگڑا: مشاعرے میں مرد و خواتین مل کر بیٹھتے ہیں، جو کہ "اختلاط” کا باعث ہے۔ لیکن اگر مرد و خواتین کو الگ الگ بٹھایا جائے تو بھی مسئلہ! کیونکہ مرد سامعین شاعرہ کی طرف دیکھ سکتے ہیں، اور خواتین سامعین شاعر کے شعروں پر دل ہار بیٹھیں گی۔ تو کیوں نہ مشاعرے میں پردے لگا دیئے جائیں؟ شاعر اسٹیج پر بیٹھے، سامعین پردے کے پیچھے، اور شاعری مائیک پر سنائی جائے یعنی ریڈیو کے پروگرام کی طرح!
مولوی صاحب کے فتویٰ نما تجویز کی روشنی میں مشاعرے کو مزید "پاکیزہ” بنانے کے لئے چند اور جواز پیش ہیں، تاکہ مشاعرہ مکمل طور پر "شرعی” ہو جائے اور شاعری کا یہ "گناہوں بھرا” میلہ جنت کا نمونہ بن جائے!
تلاوتِ قرآن اور آبِ زم زم کا چھڑکاؤ: مشاعرہ شروع ہونے سے پہلے لازمی طور پر تلاوتِ قرآن پاک ہو، تاکہ ماحول دینی ہو جائے۔ لیکن بس تلاوت ہی کافی نہیں! اس کے بعد تمام شاعروں اور سامعین کے سروں پر آبِ زم زم کا چھڑکاؤ کیا جائے، تاکہ کوئی "غیر شرعی” خیال دل و دماغ میں نہ آئے۔ اگر آبِ زم زم میسر نہ ہو تو نارمل پانی بھی چلے گا، بس اس میں کوئی آیت پڑھ کر پھونک دیں اور نیت صاف ہو کہ "شاعری کے گناہ” دھل جائیں!
مولوی صاحب کی صدارت اور واچ ڈاگ کی ڈیوٹی: مشاعرے کی صدارت کسی سرکاری وظیفہ خور مولوی کے بجائے ایک ایسے مولوی صاحب کو سونپی جائے جو "خالص شرعی” ہوں۔ یہ مولوی صاحب ہر شاعر کے ایک ایک لفظ پر کڑی نظر رکھیں گے۔ اگر کوئی شاعر "مے کشی”، "زلف”، یا "چشمِ ناز” جیسا کوئی غیر شرعی لفظ ادا کرے تو مولوی صاحب فوراً مائیک بند کرائیں، شاعر کو اسٹیج سے اتاریں، اور مشاعرہ وہیں ختم! بس، ایک لفظ اور مشاعرہ "حرام” قرار!
شاعروں کی پیشگی چیکنگ: شاعروں کو مشاعرے میں بلانے سے پہلے ان کا "شرعی بیک گراؤنڈ چیک” کیا جائے۔ کیا وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں؟ کیا انہوں نے کبھی شراب کو ہاتھ لگایا؟ کیا ان کی شاعری میں "عشق مجازی” کے آثار ہیں؟ اگر کوئی شاعر ان معیارات پر پورا نہ اترے تو اسے مشاعرے میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔ اور ہاں، شاعرہ ہو تو اسے اپنی شاعری تحریری طور پر جمع کروانی ہوگی، جسے "شرعی سینسر بورڈ” پہلے چیک کرے گا!
شاعری کی شرعی حدود: شاعری صرف دینی موضوعات تک محدود ہو، جیسے "جنة الفردوس کی سیر” یا "روزے کی فضیلت”۔ کوئی عشقیہ شعر یا "شراب و کباب” کا ذکر ہوا تو شاعر کو فوراً "توبہ استغفار” کروانا لازمی ہوگا۔ اور اگر شاعر نے "محبوب” کا ذکر کیا تو اسے فوراً وضاحت کرنی ہوگی کہ یہ محبوب "اللہ” ہے یا "رسولﷺ”، ورنہ اسے "فتنہ پھیلانے” کے جرم میں مشاعرے سے نکال دیا جائے!
سامعین کی شرعی تربیت: سامعین کو بھی مشاعرے سے پہلے ایک "شرعی تربیتی سیشن” سے گزرنا ہوگا۔ انہیں سکھایا جائے کہ واہ واہ یا تالیاں بجانے کی بجائے "جزاک اللہ” یا "سبحان اللہ” کہیں۔ اگر کوئی سامع غلطی سے سیٹی بجا بیٹھے تو اسے فوراً ہال سے باہر کیا جائے، کیونکہ سیٹی تو "شیطانی آواز” ہے!
مشاعرے کا وقت اور جگہ: مشاعرہ صرف فجر کی نماز کے بعد اور مغرب سے پہلے ہو، کیونکہ رات کا وقت تو "فساد” کا باعث بن سکتا ہے۔ اور جگہ؟ بس کوئی مسجد یا مدرسہ ہی بہتر، کیونکہ ہوٹل یا ہال میں تو "غیر شرعی” ماحول کا خطرہ ہے۔ اسٹیج پر کوئی سجاوٹ نہیں، بس ایک سادہ منبر اور مولوی صاحب کی کرسی!
انعامات کی شرعی پابندی: مشاعرے میں نقد انعامات تو "رشوت” کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ اس لئے انعامات کی جگہ شاعروں کو "دعاؤں کا تحفہ” دیا جائے، جیسے "اللہ آپ کو جنت الفردوس عطا کرے”۔ یا پھر ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے جس پر لکھا ہو: "مبارک ہو، آپ کی شاعری شرعی طور پر منظور شدہ ہے
یا پھر پانچ کیلو چاول یا زیتون کا تیل جس کا ذکر میں نے اس مضمون میں پہلے ہی کیا ہے۔ !”
مشاعرے کی ویڈیو پر پابندی: مشاعرے کی ویڈیو بنانا تو بالکل "ریا کاری” ہے۔ اگر کوئی ویڈیو بن بھی جائے تو اسے یوٹیوب پر ڈالنے سے پہلے مولوی صاحب سے "شرعی سرٹیفکیٹ” لینا ہوگا۔ اور اگر ویڈیو میں شاعرہ کی آواز یا شاعر کا چہرہ نظر آئے تو اسے فوراً "غیر شرعی” قرار دے کر ڈیلیٹ کر دیا جائے!۔
امید ہے مشاعرہ کے آرگنائزر ان باتوں پر دھیان دیں گے اور مشاعرہ کو پاک اور شرعی حکم کو مانتے ہوئے اگلے مشاعرہ کا پروگرام بنائیں گے۔
تبصرے بند ہیں.