میں اکثر اج کل یوں ہی بجھی سی رہتی ہوں
کسی احساس کی زد میں دبی سی رہتی ہوں
نہ جانے کون سا خوف ہے دل کے خانے میں
کہ جس سے اب کہ مسلسل ڈری سی رہتی ہوں
میری سوچ میرا خیال میری حد سے باہر ہے پشیمان ہوں سنجیدہ ہوں رنجیدہ ہوں فکر مند ہوں اس لیے کہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ازدواجی تعلقات میں کشیدگی ظاہر ہوتی ھے یا پھر کئی ساری وجوہات کی بنا پر یکساں سوچ نہ ہونے کی وجہ سے مکمل طور پے وہ رشتے تمام کوششوں کے باوجود ٹوٹ جاتےہیں الجھ جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں ،مگر اب بھی ایک کڑی اُن کی آپس میں جڑی رہتی ھے تب تک جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا اور وہ ہے عزت کا مول یا پھر مہر کی رقم جمع کرنے تک کیونکہ ہمارے بڑے بزرگ دور اندیش تجربہ کار ہوتے ہیں جو یہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ اب رشتوں کی اہمیت اگر نہیں ہے تو رقم کی بات کرنا ضروری ہے اور یہ آخری بات بھی تہہ کی جاتی ہے حالانکہ میں اس بات سے اتفاق نہیں رکھتی مگر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں وجوہات نظریہ الگ ہوتا ہے
پریشانی کا عالم یہ ہے کہ کچھ ہمارے معاشرے کے معذور ذہانت کے لوگ جب کسی معصوم نادان ناسمجھ کی عزت و آبرو کی حفاظت نہیں کرتے ہیں ان کو تحفظ فراہم نہیں کرتے ہیں مختصر لمہوں کے لیے اپنی شخصیت کو بھول کر وحشت کو جنم دیتے ہیں
کسی غریب معصوم کی معصومیت کو اپنے غرور سے اپنی آزادی سے اپنے خواہش سے اُسے ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں اپنی خواہش کے آگے اس معصوم کے چہرے پے ڈر خوف نہیں دکھتا ہے اُن معصوم بیٹیوں کو موت کے دروازے تک پہنچانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ہے اور پھر اُن بیٹیوں کو ایسی اودیات دی جاتی ہیں جس سے کوئی دکھائی دیتے والی غلطی نہ پیدا ہو ٹھیک ویسے جیسے کسان اپنے کھیت میں کیڑا مار دوائی کا چھڑکاؤ کرتا ہے
کیا ہمارا سماج ہمارا پڑوس اس کمزور ذہانت سے آزاد نہیں ہو سکتا ہے کیا وہ وقت واپس نہیں آ سکتا کہ جب پڑوس کی بیٹی کو اپنی بیٹی مانا جاتا تھا ایک دوسرے کے گھر کی رکھوالی کی جاتی تھی پڑوسی ایک دوسرے کے گھروں کے مالک ہوا کرتے تھے تب تو گھروں کو تالا نہیں لگایا جاتا تھا صرف اعتماد کی بات ہوا کرتی تھی کچی دیواروں میں بھی پکّا ایمان ٹوٹی پھوٹی چھتوں میں دیانتداری کے جالےلٹکتےتھے یعنی مکڑی کے جالے کی طرح ہر کسی کا کردار محفوظ ہوا کرتا تھا ۔جب سے ہم نے تیرا میرا سیکھ لیا تو سب برباد ہونے کو آیا
شاید صرف ہمارے ہندستان میں ہر سال پانچ لاکھ بچے لا پتہ ہو جاتے ہیں خواتین کی عزت کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں مذہب نے بیٹی کو بڑی عزت بخشی ہے اس کے وقار کو بلند کیا ہے بیٹی اللہ کی رحمت ہے باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ماں کا سکون ہے
زمانہ جہالت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا مگر حالات بدل گئے بیٹیاں زندہ رہنے لگی پڑھتی گئی بڑھتی گئی تعلیم و تہذیب حاصل کرتی گئی مگر اب بھی وہ محفوظ نہیں ہیں وہ معصوم بچیاں جنہیں زندہ دفن ہونے سے تو بچا لیا گیا مگر وہ اب بھی وحشت کا شکار ہیں ہر بیٹی اپنے گھر کی رونق ہوا کرتی ہیں بیٹیوں کی بہتر پرورش کرنے والا باپ جنت کا حقدار ہوتا ہے بےشک اللہ بدلہ دینے والا ہے پھر دوسروں کی بیٹیوں کی عصمت دریں کرنے والا جنت کا تصور کیسے کر سکتا ہے کسی اور کی پرورش کو داغدار کرنے سے پرہیز کیوں نہیں کرتا ۔ کسی بھی والدین کی پرورش کو اُن کی عصمت کو اپنی خواہش کے لیے کوئی بھی نذرِ آتش کیسے کر سکتا ہے کیسے کوئی کسی کی معصومانہ انداز کو معصومانہ شرارت کو اپنے لیے لذت کا سامان بنا سکتا ہے ۔۔ ان کی معصومیت کا مول کون اور کتنا دے سکتا ہے پوچھ گچھ ہونی ضروری ہے
لہذا اپنی خواہشات کے پابند نہ بنیں بلکہ احکامِ الٰہی کے پابند رہیں ۔اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت میں سے ایک ہے چاہے اپنی ہو یا دوسرے کی عزت و احترام کے ساتھ اسے خوبصورت زندگی بخشیں
جہالت کی رسومات کو توڑ دیجئے
سنجیدہ انسان کے لیے مقاشرے کی وہ ہر بات نا گوار گزرتی ہے جس میں ہم اور ہماری نسل ناتواں اور ذلیل وخوار ہو
ہمیں اب کوئی بات مرد یا عورت تک محدود نہیں رکھنی چاہئے بلکہ سلجھے ہوۓ سماجی کارکن بن کے اپنے فرائض انجام دینے ہونگے تاکہ ہمارے آس پاس کا ماحول صحت مند رہے خوشگوار رہے اور ہر بیٹی کے والدین سکون کی نیند کر سکھیں
آپ کی خیر خواہ ناہیدہ ملک
تازہ ترین خبریں
- ریلائنس جیو 5 جی کی دوڑ میں سب سے آگے
- *Four Policemen Killed in Kathua Encounter, Two Militants Neutralized*
- Several Parts of kashmir Receive Fresh Snowfall
- امریکہ کے ساتھ ’کسی بھی قسم کی جنگ‘ کے لیے تیار ہیں/ چین
- Fight against Drug Menace 2000 FIRs Registered, 3200 Addicts Detained, 400 Smugglers Arrested/ IGP VK Birdi
- سوشل میڈیا پر بیہودہ مواد کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے/اشونی ویشنو
- Supreme Court Condemns "Bulldozer Justice,” Restricts Executive from Property Demolitions*
- Dulat criticizes LG for calling meetings with bureaucrats amid elected Government
- Daily wagers, contractual employees to be regularized soon: Tanvir Sadiq
- *ایس ایس پی سرینگر کی عید میلادالنبی کے مقدس موقع پر عوام کو مبارکباد*
تبصرے بند ہیں.