The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

دودھ پتھری، یوسمرگ اور توسہ میدان میں سیاحت پر پابندی فوری طور ہٹائی جائے/حکیم محمد یاسین

2 سو یونٹ مفت بجلی کے بجائے فیس میں اضافہ غریب عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی

سیاحتی مقامات کھلوانے کے نام پر عوام سے رقم وصول کی جا رہی ہے

بڈگام/14 دسمبر/تنویر حسین

پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ (PDF) کے صدر اور سابق وزیر حکیم محمد یاسین نے اتوار کے روز جموں و کشمیر میں بجلی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے بالخصوص بڈگام ضلع کے دور دراز اور دیہی علاقے کھاگ میں غریب اور محروم طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔

کھاگ سب ڈویژن میں منعقدہ پارٹی کنونشن اور عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے کہا کہ عوام سے بھاری بجلی بل وصول کرنا سراسر ناانصافی ہے جبکہ بجلی کی فراہمی مسلسل بندش، طویل کٹوتیوں اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ انہوں نے بجلی کے نرخوں میں اضافے پر فوری نظر ثانی اور کھاگ جیسے معاشی طور پر پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی رعایت کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا،کھاگ دہائیوں سے حکومتی نظراندازی کا شکار رہا ہے۔ یہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جو دیگر علاقوں میں عام بات سمجھی جاتی ہیں۔ غریب گھرانوں پر مہنگے بجلی بلوں کا بوجھ ڈالنا شدید ناانصافی ہے۔”

پی ڈی ایف صدر نے کھاگ میں بنیادی ڈھانچے کی خراب صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور بجلی جیسے اہم شعبوں میں علاقے کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پرائمری ہیلتھ سینٹرز (PHCs)، گورنمنٹ ڈگری کالج (GDC) اور انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (ITI) کو فوری طور پر دوبارہ کھولنے اور فعال بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا،صحت اور تعلیم بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ جب تک ہسپتال، کالج اور تربیتی ادارے فعال نہیں ہوں گے، کسی بھی علاقے کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔”

حکیم یاسین نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر بھی تشویش ظاہر کی اور انتظامیہ پر زور دیا کہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، وگرنہ عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان مزید گہرا ہو جائے گا۔

سیاحت کے حوالے سے پی ڈی ایف صدر نے جموں و کشمیر انتظامیہ، لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ دودھ پتھری، یوسمرگ اور توسہ میدان میں سیاحتی سرگرمیوں پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقامات کی طویل بندش نے سیاحت سے وابستہ سینکڑوں خاندانوں کی روزی روٹی تباہ کر دی ہے۔

انہوں نے کہا،پونی مالکان، گائیڈز، دکاندار، ہوٹل ملازمین اور یومیہ مزدور شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ یہاں سیاحت کوئی عیش نہیں بلکہ زندگی کی ضرورت ہے۔”

حکیم یاسین نے الزام لگایا کہ کچھ عناصر سیاحتی مقامات کھلوانے کے نام پر عوام سے پیسے وصول کر رہے ہیں، جسے انہوں نے انتہائی سنگین معاملہ قرار دیا۔ انہوں نے اس کی مکمل تحقیقات اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی کو بھی پیسے نہ دیں کیونکہ سیاحتی مقامات کو دوبارہ کھولنا صرف حکومت کی ذمہ داری ہے۔

قبل ازیں کھاگ میں منعقدہ پی ڈی ایف کنونشن میں بڑی تعداد میں کارکنان اور مقامی عوام نے شرکت کی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حکیم یاسین نے نیشنل کانفرنس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے پی ڈی پی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسی پارٹی نے جموں و کشمیر میں بی جے پی کے داخلے کی راہ ہموار کی، جس کے نتیجے میں ریاست کی خصوصی حیثیت ختم ہوئی۔

تبصرے بند ہیں.