سرینگر/ 02جنوری/عاشق تلگامی
جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے صدر جی ایم شاہین نے حکومتِ ہند سے جموں و کشمیر کے کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (KCC) قرضوں کی فوری، غیر مشروط اور مکمل معافی کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ حکومتی عدم توجہی، بار بار قدرتی آفات، غیر یقینی موسمی حالات اور انتظامی بے حسی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
جی ایم شاہین نے کہا کہ کسان مسلسل فصلوں کے نقصان، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور شدید مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے سبب ان کے لیے قرضوں کی واپسی ناممکن ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود کسانوں سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابلِ جواز بلکہ معاشی طور پر بھی انتہائی خطرناک ہے۔
جے ڈی یو صدر نے کہا کہ قرض معافی میں ناکامی اس بات کی عکاس ہے کہ پالیسی ساز زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا، “مالی بدحالی کا شکار کسانوں سے قرض کی وصولی حکمرانی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ظلم کے مترادف ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کی زراعت محض کھوکھلے وعدوں پر زندہ نہیں رہ سکتی جبکہ کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
جی ایم شاہین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس سنگین صورتحال پر توجہ نہ دی تو دیہی علاقوں میں بدحالی میں مزید اضافہ ہوگا، کسان خاندان ناقابلِ واپسی غربت میں دھکیل دیے جائیں گے اور دیہی معیشت شدید عدم استحکام کا شکار ہو جائے گی، جس کے سماجی اثرات بھی انتہائی سنگین ہوں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت بیوروکریسی کی سستی سے اوپر اٹھ کر ایک ہنگامی راحتی اقدام کے طور پر ایک مرتبہ کے سی سی قرضوں کی مکمل معافی کا اعلان کرے تاکہ کسانوں کو عزت، مالی سہارا اور معاشی اعتماد بحال ہو سکے۔ جے ڈی یو صدر نے واضح کیا کہ اگر فیصلہ کن اقدام نہ کیا گیا تو یہ کسانوں کے ساتھ صریح دھوکہ اور کسان فلاح کے حکومتی دعوؤں کی ناکامی تصور کیا جائے گا.
تبصرے بند ہیں.