☘️ ادبی چمن 🍀
آج میرے ہاتھوں میں چائے کی پیالی تو نہیں ہے مگر ایک نظر ادبی چمن کی طرف ہے کُچھ خیال سونے نہیں دیتے ہیں ۔آئے دن کُچھ گلے شکوے پڑھنے کو ملتے ہیں اخر اس چمن میں دیکھنے والوں کو چنگاری کیوں دکھتی ہے
ادب کے معنی کسی چیز کو حد نظر میں رکھنا کسی موضوع خیال احساس تجربے کو فنکارانہ انداز میں پیش کرنا یعنی سیدھے سادے لفظوں میں علم و ادب کو بیان کرنا ہے ادبی چمن میں دیدہ ور معززین
نظم بامعنی غزلیں درد میں ڈوبے مرثیہ قصیدے لکھے اور پڑھے جاتے ہیں شاعر اپنی بات یا حالات کو خوبصورت موتیوں کی طرح پرونا جانتا ہے مخصوص الفاظ میں مکمل تخلیق کاری بیان کرنا جانتا ہے۔پربت پہاڑ کے دامن کو چیر کر نظم کو تراشنا درختوں کے سوکھے پتوں پے
نثر لکھنے کا ہنر جانتا ہے گلشن میں پودوں کو سينچ کر بہاروں کو اپنے خیالوں کے اوراق پہ اتارنے کا ہنر جانتا ہے زمین و آسماں درخت پانی بارش ہوا دھول مٹی کو اپنے قلم سے ایک چھوٹی حد میں باندھنے کی کاری گری کرنا جانتا ھے
تو پھر ادبی چمن میں تعصب کیوں ہیر پھیر رنجش کیوں ؟کیوں اکثر شکایتوں کا بازار گرم رہتا ہے مانا کہ کچھ پھول زیادہ جسامت پا گئے مگر باقی پھول بھی انہی کی لڑی میں لگے رہتے ہیں جنہاں استاد وہاں شاگرد یہ تو چولی دامن کا ساتھ ہے
چمن بغاوت کا میدان نہیں ہو سکتا ہے سود و زیاں کے اس دور میں محبت عزت حوصلہ افزائی کرنا وہ جذبہ ہے جو سادہ انسان کو بھی نکھارتا ہے سنوارتا ہے جینے کا حوصلہ دیتا ہے ادب ہمیں انسان سے پیار اور زمین سے لگاو سکھاتی ہے ادب کا پرچم اخلاص مسکراہٹ شفقت ہے جو دل و دماغ پر یکساں اثر رکھتی ہے ادب میں مخالفت ہونا شکوے شکایت کا ہونا ادب کو ترقی تک نہیں لے جا سکتی ہے بلکہ سیاست کا میدان ضرور بن سکتی ہے
ادب کی دنیا کو مخصوص جگہ تک محدود نہ رکھیں کسی آڈیٹوریم کی شان سے بہتر ہے کہ اسے کھلی فضا میں۔ سانس لینے دیں اس چمن میں ان گنت پھول کھلنا چاہتے ہیں
وی آئی پی کلچر کو فروغ نہ دیں ،دس منٹ کے لئے وی آئی پی لوگ دعوت قبول کرتے ہیں اور ادبی محفل چھوڑ کر ضروری کام کے لئے نکل جاتے ہیں تو کیا ادبی محفل غیر ضروری ہوتی ہے ایسے میں حساس لوگ مایوس ہو جاتے ہیں ادب نواز لوگ ادب سے لطف اٹھاتے ہیں ایک دوسرے کا کلام اطمینان۔ سے سنتے ہیں اپنے ادبی چمن کو کھلی فضا میں بلند آواز اٹھانے دیں نوجوان نسل کو بیٹھنے کے لئے کرسی نہ ملے کوئی بات نہیں ۔وہ زمین پر بیٹھ کے بھی آکاش کی طرف رخ کر سکتے ہیں ۔
ادب ہنر ہے اسے ٹیگور، سہگل، سے باہر لائیں کسی نشہ مکت سینٹر تک لے جائیں قید خانوں تک لے جائیں کیونکہ ادب سے روشنی ملتی ہے حوصلا ملتا ہے کُچھ اُن سے سنیں کچھ اپنی سنائیں
اور اپنی کتابوں کی قیمت اتنا ہی رکھنے کی کوشش کریں جتنے میں ایک مزدور سے لیکر کسی بیروزگار تک آپ کی کہی بات پہونچ سکھے یا پھر کوئی غریب بچہ اپنے لیے کوئی میٹھی چیز خرید لے ادب کو عام کریں ورنہ یہ خاص بن کر صرف الماریوں تک محدود رہے گا خود کو دوسروں کے لئے کھوج بنائیں تاکہ آپ کو لوگ پڑھیں آپ سے سیکھیں ضروری نہیں کی ہر کسی کی لکھی بات سلیبس میں ائے مگر ضروری یہ ہے کہ آپ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے ہیں کتنی زبانوں پے آپ کا نام اور کام رہے
ادبی چمن کے معززین سے گزارش ہے کہ اپنے دامن کو وسیع کریں اختیارات کو بانٹ دیں یہ ایک خوبصورت خیرات ہے اس ماحول کو صحت مند بنائیں چمن کا مالی خود بیرنگ اور میلے کپڑوں میں رہ کر گلستان کو دل و جان سے سینچتا ھے جب کی وہ اس گلشن کا مالک نہیں ہوتا ہے پھر بھی اس چمن کی رہنمائی کرتا ہے نہ غرور نہ تکرار صرف خوشبو اور مُسکراہٹ دینے کی کوشش کرتا ہے ادب دلوں کو نرم کرتا ہے کدورت کے تمام پردوں کو ہٹا دیتا ہے سچا ادب حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے دور سے کسی کی نیت کا اندازہ لگانا سراسر بیکار ہے صدا بہار پودوں کو لگائیں ،کچھ گھنا سایہ دینگے کچھ خوشبو اور کچھ راحت
گُلشن اُلفت کھلے گا پھر سے یہ کہتے ہوئے
ایسا لگتا ہے کہ اس دل کو لبھا دیتی ہوں میں
🍁🍁🍁ناہیدہ ملک🍁🍁🍁
تبصرے بند ہیں.