The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

ادب اور مصنوعی ادیب

 تحریر:________ گاش روحی

 

 

 

آج کے عہد میں ادب کو سب سے بڑا خطرہ کسی سنسرشپ یا پابندی سے نہیں، بلکہ جعلی تخلیق اور مصنوعی ادیبوں سے لاحق ہے۔ ٹیکنالوجی کے نام پر ChatGPT جیسے ذرائع نے ایسے افراد کو زبان اور قلم دے دیا ہے جن کا ادب سے کوئی فکری، جذباتی یا تخلیقی رشتہ ہی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہر دوسرا شخص مضمون، شاعری یا افسانہ ہاتھ میں لیے خود کو ادیب کہلوانے لگا ہے۔

بقولِ غالب

*آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں*

*غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے*

 

مرزا غالب کے اس معنی خیز شعر کی تفصیر میں دیکھیں تو ہمارے یہاں فکر مفقود ہو کر رہ گئی ہے اس لیے کہ مشینوں نے ہماری سوچ کے سوتوں کو خشک کر دیا ہے۔

ادب محض لفظوں کی ترتیب نہیں، بلکہ یہ احساس کی آگ، تجربے کی دھوپ اور مشاہدے کی راتوں سے جنم لیتا ہے۔ سچا ادیب وہ ہوتا ہے جو سماج کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے، جو لکھتے وقت خود بھی زخمی ہوتا ہے۔ اور *بقول مرزا غالب کے جنوں کی حکایات تحریر کرتے کرتے ہمارے ہاتھ قلم ہو جائیں*۔ مگر آج کا نام نہاد ادیب نہ مطالعہ رکھتا ہے، نہ ریاضت، نہ فکری دیانت—بس ایک شارٹ کٹ ہے، ایک مشین، اور ایک جھوٹا دعویٰ۔

یہ لوگ ادب تخلیق نہیں کرتے، استعمال کرتے ہیں۔ پہلے سرقہ انسانوں سے ہوتا تھا، اب مشین سے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ چوری جدید ہو گئی ہے، بددیانتی نہیں۔ سوشل میڈیا اور ادبی گروہوں میں یہ جعلی تحریریں داد سمیٹتی ہیں، جبکہ اصل لکھنے والا، جو برسوں قلم گھساتا ہے، خاموشی سے کنارے لگا دیا جاتا ہے۔

قابلِ افسوس امر یہ ہے کہ قاری بھی اکثر اس فریب کو سچ سمجھ لیتا ہے۔ یوں ادب کی سطح پست ہوتی چلی جاتی ہے اور معیار کی جگہ نمائش لے لیتی ہے۔ ادب ایک مقدس عمل تھا، مگر اب اسے سستی شہرت اور وقتی مقبولیت کی نذر کیا جا رہا ہے۔

یہ کہنا کہ “ہم نے صرف مدد لی ہے” ایک کمزور اور مکروہ دلیل ہے۔ جب خیال، اسلوب، تشبیہ، نتیجہ سب مشین کا ہو تو لکھنے والے کا حصہ صرف نام رہ جاتا ہے۔ اور جہاں صرف نام بچے، وہاں ادب نہیں، دھوکا ہوتا ہے۔

اگر یہ روش نہ روکی گئی تو ادب ایک خوبصورت مگر بے جان لاش بن جائے گا—لفظ موجود ہوں گے، مگر روح غائب۔ آنے والی نسلیں شاید پڑھ تو لیں، مگر محسوس کرنا بھول جائیں گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ادبی دنیا خود احتسابی کرے، جعلی ادیبوں کو پہچانے، اور یہ مانے کہ مشین سہولت ہو سکتی ہے، تخلیق کا نعم البدل نہیں۔ ادب انسان کا مقدر ہے، مشین کا نہیں۔ جو اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے، وہ ادب کا خادم نہیں—اس کا قاتل ہے۔

غرض ہم مشین کے ایسے پرزے ہو کر رہ گئے ہیں *جہاں سے ہم کو بھی اپنی کوئی خبر نہیں آتی*۔

تبصرے بند ہیں.