The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

میرا پسندیدہ شاعرعلامہ اقباؒل

( تحریر :عبید آخون)

0

یوں تو ہمارے نظروں کے سامنے بہت سے مشہور شاعروں کی شاعری مثنوی، قصیدہ، رباعی گزرتی ہے جو عشقیہ بھی ہوتے ہے اور حقیقی بھی جن میں اثر بھی ہوتا ہے اور لچک بھی جن کی وجہ سے ان میں ایک گہرا رنگ ہوتا ہے، شاعروں کی شاعری سُن کر یا پڈھ کر کچھ اِشعار ہمارے زہنوں میں گڈھ جاتے ہے اور ان شعاروں کے لکھنے والے ہمارے پسندیدہ شاعر بن جاتے ہے اسی طرح ایک روحانی شاعر علامہ سر محمد اقبالؒ کے اشعار میرے لیے آبِ حیات بن چُکے ہے علامہؒ کی شاعری میں خُداوندی خوب جھلکتی ہے جیسے
مٹا دے اپنی حستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہتا ہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گُلو گُلظار بنتا ہے

علامہؒ کی شاعری کی اگر بات کی جاے تو انسان کو نصیحت بخشنے والی نظمیں اور غزلیں اپنی مثال آپ ہے جنہیں انسان تب تک یاد رکھے گا جب تک یہ دُنیاں قائم ہے جیسے

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
تو اگر میرا نہ بن سکا نہ بن اپنا تو بن

علامہؒ ایک پہلودار شخصیت کے مالک ہیں شاعر کے ساتھ ساتھ وہ فلسفی کا درجہ بھی حاصل کر چکے جب علامہؒ نے شاعری کی ابتداء کی تو اُس وقت داغ اور میر جیسے قدآود شاعروں کے اثرات موجود تھے پر علامہؒ نے بعض بنیادی تبدیلیوں کو اپنا کر اُردو غزل کو اظہار کا وسیلہ بنایا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ صدی میں سب سے پہلے علامہؒ کے ہاتھوں اُردو غزل جدیدیت سے آشنا ہوئی.
رسالہ مخزن کے سابق مدیر شیخ عبدل قادر جنہوں نے سب سے پہلے علامہؒ کی شاعری کو منظر عام پر لایا کلیات اقبالؒ کے دیباچہ میں علامہؒ کی عظمت میں یوں رقم طراز ہیں
"کسے خبر تھی کہ غالب مرحوم کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوگا جو اُردو شاعری کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دے گا اور جس کی بدولت غالب کا بے نظیر تخیل اور نرالا انداز بیان پھر وجود میں اے گا اور اُردو ادب کے فروغ کا باعث ہوں گے مگر زبان خوش اقبالی دیکھیے کہ اُس زمانے میں اقبالؒ جیسا شاعر اسے نصیب ہوا جس کے کلام کا سکہ ہندوستان بھر کی اردوں داں دُنیاں کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے اور جس کی شہرت روم و ایران بلکہ فرنگستان تک پہنچ گئی ہے
غالب اور اقبالؒ میں بہت سی باتیں مشترک ہیں اگر میں تناسخ کا قائل ہوتا تو ضرور کہتا کہ مرزا اسد اللہ خان غالب کو اردو اور فارسی کی شاعری سے جو عشق تھا اُس نے اُن کی روح کو عدم میں جاکر بھی چین نہ لینے دیا اور مجبور کیا کہ وہ پھر کس جسدِ خاکی میں جلوہ افروز ہو کر شاعری کے چمن کی آبیاری کرے اور اس نے پنجاب کے ایک گوشہ میں جسے سیالکوٹ کہتے ہیں دوبارہ جنم لیا اور محمد اقبالؒ نام پایا. ”
جب شیخ محمد اقبالؒ کے والد بزرگوار اور اُن کی پیاری ماں اُن کا نام تجویز کر رہے ہوں گے تو قبولِ دعاء کا ،وقت ہوگا کہ اُن کا دیا ہوا نام اپنے پورے معنوں میں صحیح ثابت ہوا اور اُن کا اقبالمند بیٹا ہندوستان میں تحصیلِ علم سے فارغ ہو کر انگلستان پہنچا- وہاں کیمبرج میں کامیابی سے وقت ختم کر کے جرمنی گیا اور علمی دنیاں کے اعلا مدارج طے کر کے واپس آ یا بقول اقبالؒ

چلی ہے لے کر گھر کے نگار خانے سے
شرابِ عِلم کی لزت کُشا کُشا مجھ کو

شیخ محمد اقبالؒ نے یورپ کے قیام کے زمانے میں بہت سی فارس کتابوں کا مطالعہ کیا اور اس مطالعہ کا خلاصہ ایک مُحققانہ کتاب کی صورت میں شائع کیا جسے فلسفہ ایران کی مختصر تاریخ کہنا چاہیے اس کتاب کو دیکھ کر جرمنی والوں نے شیخ محمد اقبالؒ کو ڈاکٹر کا علمی درجہ دیا انگریزی سرکار کو جب ایک عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی شاعری نے عالمگیر شہرت پیدا کر لی ہے تو اس نے بھی ازراہِ قدروانی سر کا ممتاز خطاب انہیں عطا کیا – اب وہ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کے نام سے مشہور ہیں. علامہ ؒ کے والد شیخ نور محمد کے متعلق ماہرین اقبالیات کا یہ خیال ہے کہ آپ کشمیری "سپرو” برہمنوں کے خاندان سے تھے چنانچہ ‘ زبور عجم’ کے ایک شعر میں اقبالؒ نے اپنی برہمن زادگی کا اقرار کرنے کے ساتھ ساتھ مولانا رومی اور حضرت شمس تبریزی سے اپنے تعلق خاطر کا اظہار یوں کیا ہے

مرا بنگر کہ در ہندوستان آخر نمی بینی
برہمن زادہ رمز آشناے روم و تبریذ است

علامؒہ کے آباء و اجداد نے اورنگ زیب کے زمانے میں حضرت شیخ نورالدین نورانی( علمدار کشمیر ) کے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر قبولِ اسلام کیا اس بات کی تائید اقبالؓ کے خط سے بھی ہوتی ہے

علامہؒ نے میونخ یونیورسٹی میں اپنے تحقیقی مقالہ جو The Development of Metaphysics in Persia کے عنوان سے تحریر کیا تھا پیش کیا چنانچہ میونخ یونیورسٹی نے اس مقالے پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی اور ١٩٠٨ء میں مقالہ پہلی بار لندن سے شائع ہوا

علامہؒ روز مرہ کی زندگی میں پنجابی میں بات کرتے تھے لیکن علمی اور ادبی موضات پر اردو میں گفتگو کیا کرتے تھے؛ فارسی؛ انگریزی؛ جرمن اور عربی زبانوں پر اچھی دسترس رکھتے تھے – مضامین میں تاریخ، تصوف؛ علم الکلام؛ فلسفہ؛ اسلامیات؛ اور عمرانی علوم سے انہیں گہری دلچسپی تھی

ترانہ ہندی جب علامہ ؒ نے لکھا وہ علامہؒ کی شاعری کا ابتدائی دور کہلاتا ہے بعد میں جب زہن میں پختگی آئی تو اقبالؒ کی وطنی قومیت اور وحتُ الوجود کی طرف میلان گریز میں بدلنے لگا خاص طور وطنی قومیت کے نظریے کے تو وہ اس قدر خلاف ہوگئے کہ اسے ملت اسلامیہ کے لیئے تباہ کن سمجھنے لگے چنانچہ بعد میں ترانہ ملی میں علامہؒ نے اس بات کا بر ملا اظہار بھی کیا
چین و عرب ہمارا؛ ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا

اقبالؒ کی آمدنی اوسط درجے کی تھی لیکن زندگی میں وہ کبھی؛ حرص و ہوس، یا احساس کمتری میں مبتلا نہیں رہے وہ اپنی آمدنی ہی میں گزر بسر کرتے اور مطمئن رہتے تھے تو کل و قناعت کے ساتھ خوداری اور غیرت مندی ان کے مزاج میں ایسی تھی کہ بلا ضرورت کسی قسم کی مالی امداد طلب کرنا پسند نہ کرتے تھے – زندگی کے آخری برسوں میں علالت کے سبب زرائع آمدنی مفقود ہوگے تھے اس لیے نواب بھوپال سے پانچ سو روپے ماہانہ کا وظیفہ قبول کر لیا تھا لیکن ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم سر اکبر حیدری نے توشہ خانے سے علامہ اقبالؒ کو ایک ہزار روپے کا چیک بطور امداد بھیجا، تو اقبالؒ نےواپس کر دیا اس لئے کہ جس فنڈ سے یہ رقم بھیجی گئی تھی اسے ان کی غیرت مند اور خودار شخصیت ہرگز قبول نہیں کرسکتی تھی علامہؒ نے چیک کے ساتھ کچھ اشعار بھی تحریر کیے جس کا آخری اشعار یوں ہے
غیرت فقر مگر کر نہ سکی اس کو قبول
جب کہاں اس نے یہ ہے میرے خدائی کی زکات

علامؓہ کی شاعری کا آغاز

یوں تو شعر و شاعری سے ان کی مناسبت بچپن ہی سے ظاہر تھی کبھی کبھار شعر موزون کر لیا کرتے تھے مگر اس سلسلے میں زیادہ سنجیدہ نہیں تھے
1895 ء میں اقبال نے ایف اے کا امتحان پاس کیا- 1898ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اسی سال ایم اے(فلسفہ ) میں داخلہ لیا چنانچہ 1899ء میں فلسفے کے امتحان میں پنجاب بھر میں اول آے، اس دوران بھی شاعری کا سلسلہ قائم رہا مگر مشاعروں میں نہیں جاتے تھے. نومبر 1899ء کی ایک شام کو کچھ بے تکلف ہم جماعت انہیں حکیم امتیاز الدین کے مکان پر ایک محفل مشاعرہ میں کھینچ لے گئے. بڈے بڈے اساتِذہ شُعراء جمع تھے اقبال بلکل نئے تھے، اس لیے ان کا نام مبتدیوں کے دور میں پکارا گیا –  اقباؒل نے غزل پڑھنی شُروع کی،  جب اس شعر پر پہنچے

موتی سمجھ کے شان کریمی نے چُن لیے
قطرے جو تھے میرے عرقِ  انفعال  کے

محفل میں موجود مرزا ارشد گورگانی اُچھل پڈے – بے اختیار ہو کر داد دینے لگے – یہاں سے اقبالؒ کی بحیثیت شاعر شہرت و مقبولیت کا آغاز ہوا

عظمت اقبالؒ پر ماہرین کی آراء

اقبالؒ کی تعریف میں ڈاکٹر حُسین قریشی لکھتے ہیں ” تاریخ میں بہت کم ایسے شاعر ہوے ہیں جنہوں نے اتنا گہرا اثر ڈالا ہو جتنا اقبالؒ نے بر صغیر کے مسلمانوں پر ڈالا ہے -” اور یہ اثر زیادہ تر ان کی شاعری کی مرہون منت ہے –  اقبالؒ کی شاعری نفاست اور سلیقے سے تراشا ہوا ایک ایسا نگینہ ہے جو ایک کم پڈھے لکھے شخص سے لے کر ایک عالم بے بدل  متکلم فلسفی تک کی نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے –  نظریاتی اعتبار سے اقبالؒ کے مُخالفین کو بھی ان کی عظمت پر ایمان لاتے ہی بنتی ہے اور یہ محض شعرِ اقبالؒ کا اعجاز ہے.
بقولِ پروفیسر  رفیع الدین ہاشمی اپنی بے مثال فنی مہارت اور منفرد و فکری عظمت کی بنا پر علامہ اقبالؒ کو اردو شعر و ادب کی آبرو کہاں جاے تو مبالغہ نہ ہوگا  مقصد و فن کا ایسا متوازن اور حسین و جمیل امتزاج عالمی ادب میں بھی مشکل سے ہی ملے گا.
اقبال نامہ”  مرتبہ چراغ حسن حسرت ص 26 میں علامہ اقبال کی شاعری میں یوں رقم طراز ہے :-
"شعر کہتے وقت ڈاکٹر صاحب کی عجیب کیفیت ہوتی تھی بیٹھے بیٹھے لیٹ جاتے،  بار بار پہلو بدلتے –  کبھی چہرے پر اضطراب ہوتا تھا کبھی بشاشت – ان کے پلنگ کے نیچے ایک میز ہوتی تھی اس پر ایک کاپی پڈھی رہتی تھی –  جب شعر کہنے کو طبیعت چاہتی تھی لکھنا شروع کردیتے تھے – کبھی کبھی کوئی ملنے کو آجاتا تھا تو اسے شعر لکھوا دیتے تھے ”
( "نقشِ اقبال” ص 136)  علامہ کی شاعری کی مناسبت سے کچھ ان الفاظوں میں تعریف کی گئی ہے
"علامہؒ کی شعر گوئی کا کوئی وقت متعین نہ تھا – جب ان کی موج آجاتی مجھ کو آواز دیتے اور کہتے بیاض لے آو اور کلام مجید بھی –  جب بھی علامہؒ دن میں فکرِ سخن کرتے تو کلامِ مجید ضرور پاس رکھتے تھے – کبھی کچہری سے واپسی پر علامہؒ کرسی پر بیٹھ جاتے اور مشقِ سخن کر دیتے مگر ععلامہ کلام رات کی تنہائی میں ہی مرتب ہوتا تھا…
                                 

علامہ اقبال  کے اپنی زبانی
"میں شعر کہنے کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتا اور عموماً یہ ہوتا ہے کہ کو ئی خیال دماغ میں ہے جس کا اظہار مفید معلوم ہوتا ہے –  یہ خیال دماغ میں چکر لگاتا رہتا ہے – پھر کس وقت بغیر ارادے کے نظم کی صورت اختیار کر لیتا ہے – اکثر ایسا ہوا ہے کہ بیک وقت پوری رباعی یا نظم موزوں ہوگی، گویا کسی نے لکھوا دی ہے – بعض وقت تو شعر اس تیزی سے نظم ہوتے ہے کہ ان کا لکھنا دشوار ہوجاتا ہے – اس کے بعد پھر کئی کئی روز تک  ایک شعر بھی موزوں نہیں ہوتا – کوشش اور ارادہ بھی ناکام ثابت ہوتا ہیں. ”
                            (” مخزن ” اپریل 1949)

مشرق و مغرب علامہ کی افکار میں

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حُزر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

اس شعر کو اگر ہم لے کر چلے تو اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر مشرق مغرب سے کنارہ کش کرنے سے ہمیں روکتے ہے علامہ نے بہت سی جگہوں پر مغرب کی تعریف بھی کی ہے اور یہاں تک لکھا کہ مغرب کے دانشوروں نے میرے علم میں اضافہ کیا اور بہت سے مغربی مفکروں پر اشعار بھی لکھے مگر جب مشرق کے بارے میں دیکھے تو علامہ کا یہ شعر اُن سب ناقدین پر بھاری پڈھ گیا جو یہ سونچتے تھے کہ علامہ مغرب کے ہی ہو کر رہینگے شعر کچھ یوں ہے
خیرہ نہ کرسکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

علامہ اقبال اور مولانا محمد علی جوہر دو ایسے نام ہے جو مغرب کی  دانش گاہوں سے تعلیم حاصل کر کے آے تھے لیکن ان دو سے بڈھ کر کسی نے مغرب پر اتنی زوردار تنقید نہیں کی

مے خانے یورپ کے دستور نرالے ہیں
لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

جاپان کے وہ دو شہر (ہیروشیما اور ناگاساکی ) جو عالمی جنگ کی وجہ سے آج بھی اپنی داستان آپ بیان کرتے ہے. جب بھی زہن میں گردش کرتے ہیں تو میرے موں سے علامہ اقبال کے اشعار بے ججک نکلتے ہیں

دیار مغرب میں رہنے والو خُدا کی بستی دکان نہیں ہے 
کھرا تم جسے سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم  عیار ہوگا 
تُمہاری تہزیب اپنے خنجر سے آپ خودکُشی کرے گی 
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا نا پائیدار ہوگا… 

علامہ کے کلام میں عشقِ کا مقام 

علامہ کا دور وہ تھا جب حالی مقدمہ شعرو شاعری لکھ چُکے تھے اردو شاعری پر تنقید عروج پر تھی یہاں تک کہ ناقدین نے اسے نیم وحشی صنف کےالقاب سے بھی نوازا تھا   اُردوں شاعری کے دو دبستان، دبستانِ دلی اور دبستانِ لکھنو وجود میں آچکے تھے علامہ نے اسی دور میں شاعری کا آغاز کیا –  علامہ نے عشق کا دائرہ جو گُل و بُلبل،  وجودِ زن سے آگے نہیں بڑھ پایا تھا کے معنی ہی بدل دییے اقبال کے عشقِ میں عورت سوار نہیں ہے بلکہ اُن کا عشق، عشقِ حقیقی کے اعلیٰ مقام عبور کرنے کی جستجو میں محو ہے 

صدقِ خلیل بھی ہے عشق، عزمِ حُسین بھی ہے عِشق 

معرکہ وجود میں بدر و حُنین  بھی ہے عشق 

علامہ عشقِ نبی صل اللہ علیہ و سلم کو دینِ حق کی شرط اول مانتے ہے اور یہاں تک فرماتے ہے کہ اگر نبی پاک کا عِشق نہ ہو تو شرح و دین بُت کدہ تصورات کے سِوا کچھ بھی نہیں 

پروفیسر جگن ناتھ آزاد کے بقول اگر اقبال اردو اور فارس شاعری کو اس موڈ سے آشنا نہ کرتے تو آج جوش ملیح آبادی مجاز، احسان دانش اور سردار جعفری کی شاعری کا اندازہ یقیناً مختلف ہوتا – جوش کو شاعرِ انقلاب بنانے میں اس ماحول کا بہت بڈا ہاتھ ہے جس کی تخلیق اقبال کے تفکر نے کی –  اگر اقبال غزل کی صنف میں ایسا انقلاب برپا نہ کرتے تو فیض اور روش صدیقی کی شاعری کو پروان چڑھنے میں ایک صدی اور لگ جاتی. 

اقبال کا شاہین اور مردِ مومن 

علامہ کی شاعری میں مردِ مومن وہی ہے جو صاحبِ لولاک ہے مرد مومن میں ایک نئی اور انوکھی شان پائی جاتی ہے –  اس کے گفتار اور کردار میں اللہ ہی کی بُرہان نظر آتی ہے یعنی مرد مومن وہی ہے جو خود کو اُس رنگ میں ڈال دیتا ہے جس رنگ میں رَبُ العزت اسے   رازی ہوجائے یعنی جس کو ربب پر یقین محکم اور جو عمل میں پیہم ہو اور   وہی خُدا کا مجاہد کہلاتا ہے
بقولِ اقبال 

الفاظ و معنی میں تفاوت نہیں لیکن 

مُلاء کی ازان اور مجاہد کی ازان اور

 اقبال کے کلام میں شاہین کا بھی زکر بہت  اہمیت کا حامل ہے اس کے زریعے علامہ اُمتِ مسلمہ کے لے یہ سبق یاد دلانے کی کوشش کر رہے ہے کہ یہ دنیاں عاجزی ہے یہاں ہم عارضی طور پر زندگانی گزارنے آے ہے اور ہمیں اس دنیاں میں قناعت والی زندگی بسر کرنے پر خود کو آمادہ کرنا چاہیے. 

علامہ کی  نوجوانوں کی تعلیم پر تنقید 

خوش تو ہیں ہم جوانوں کی ترقی سے مگر 
لب خاندان سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ 
ہم سمجھتے تھے کہ لاے گی فراغت تعلیم 
کیا خبر تھی کہ چلا آے گا الحاد بھی ساتھ 

علامہ دور جدید کی مادہ پرستانہ تعلیم و تربیت سے اُمتِ مسلمہ کو دور رہنے اور اُنہیں سچی روحانی تعلیم و تربیت کی طرف راغب کرنے کی زبردست کوشش کر رہے ہیں تاکہ اُمتِ مسلمہ مغرب کی چمک دمک سے اور بے حیائی سے  اپنے ایمان کو بچا سکے… 

علامہ کی تصانیف 

فارسی زبان میں علامہ اقبال کے آٹھ مجموعے شائع ہو چکے ہیں جو حسبِ زیل ہیں 

اسرارِخودی،  رموزِ بے خودی،  پیامِ مشرق، زبورِ عجم،  جاوید نامہ؛ مسافر؛  پس چہ باید کرداے اقوامِ مشرق، ارمغان حجاز(فارسی گے ) . 

اردو زبان میں علامہ کی تصانیف میں  بانگِ درا، بالِ جبریل؛ ضربِ کلیم؛ ارمغان حجاز (اُردو) شاملِ ہیں.

 علامہ کی شاعری پڈھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ علامہ ایک حقیقی اور خُدا پرست شاعر گزر چکے  ہیں .  

 
علامہ اقبال کے مکاتیب کو اُردو ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو مکاتیب غالب کو حاصل ہے، الطاف حسین حالی نے "یادگارِ غالب "میں 1850 ء کو اردو خط و کتابت کا آغاز قرار دیا ہے.
علامہ اقبال کی نثری تصنیف ” علم الا قتصاد ” اردو ادب میں اقتصادیات کی پہلی تصنیف تسلیم کی جاتی ہے، علامہ کی شاعری سے ان کے افکار و خیالات اور نظریات و تصورات کے علاوہ ان کی شخصیت کا جو خاکہ ہمارے زہنوں پر مرتب ہے اس میں اُن کے مکتوبات کے مطالعے سے رنگ بھرے جا سکتے ہیں – علامہ کے مکتوبات جو انہوں نے اپنے دور کے مختلف علماء فضلاء اور شعراء کے نام وقتاً فوقتاً رقم کیے ایک عہد کی داستان، تواریخ، علامہ کا مفکرانہ انداز، کی عکاسی کرتا ہے، ماہرین اقبالیات کے مطابق، اُن کے مکاتیب کی تعداد ، جو اب تک شایع ہوگئے ہیں تیرہ سو سے تجاوز کرتی ہے. معروف ماہر اقبالیات اور تنقید نگار مرحوم پروفیسر آل احمد سرور نے علامہ کے مکاتیب کو کلامِ اقبال کی اچھی شرح قرار دیا ہے. سید نزیر نیازی مرحوم کو علامہ اقبال نے سب سے زیادہ خط لکھے جو قبل از مرگ انہوں نے "مکتوبات اقبال” کے نام سے 1957 میں اقبال اکادمی لاہور کے زریع شایع کرایا –
مرحوم سید نیازی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے علامہ اقبال کی اجازت سے اُن کی انگریزی خطبات "The” Reconstruction of of Islamic thoughts in islam” کا پہلا ترجمہ "الٰہیاتِ اسلامیہ” کے نام سے شائع کیا –
خطبات اقبال میں علامہ بحثیت ایک مفکر نظر آتے ہے افکار میں نظریات اسلامی کی تشکیل جدید کے سلسلے میں کوئی بھی اہل علم ان خطبات کی اہمیت کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتا – علامہ اقبال کے فرزند جسٹس جاوید اقبال علامہ کے خطبات کی قدرو قیمت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں ” دنیائے اسلام کے بعض مدبر اہلِ علم حضرات جن سے مجھے کبھی ترکی میں اور دمشق میں یا قاہرہ میں ملنے کا اتفاق ہوتا رہا ہے وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ خطبات اس قدر اہم ہے کہ گزشتہ تین سو سال میں ایسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے اور اس کتاب کی اہمیت روز بہ روز دنیائے اسلام میں بڈھتی جا رہی ہے. خود علامہ اقبال کی اپنے مشہور چھ خطبات کے بارے میں رائے دیتے ہوے لکھتے ہیں کہ اگر یہ کتاب خلیفہ مامون الرشید کے دور میں شایع ہوتی تو یقیناً اسلامی دنیاں میں ایک انقلاب برپا کرنے کا زریع بنتی – علامہ کے خطوط اور خطبات علامہ کی دینِ اسلام کے ساتھ وابستگی کی عکاسی کرتا ہے.

٢١ اپریل ١٩٣٨ ء کو علامہ اقبالؒ اس دار فانی سے رحلت کر گئے اور اقبال کو شاہی مسجد کے مُتصل آسودہ خاک کیا گیا بقول اقبال

زیارت گاہ اہلِ عظم و ہمت ہے لحَد میری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

Bold hearts, firm souls come pilgrim to my tomb’، I taught poor dust to tower hill – high in air

عبید احمد آخون
ساکنہ پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی
9205000010 akhoon.aubaid@gmail.com
Columnist is Working as Sr Edp Head and Councilor at DD Target PMT Parraypora

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.