The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

بڑی مشکل سے ہوتا ھے چمن میں دیدہ ور پیدا مرحوم حضرت میاں بشیر احمد لاروی

تحریر: ریاض بڈھانہ)

0

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

موت اس کی ہے کرے جس پہ زمانہ افسوس“
موت سب سے بڑی سچائی اور سب سے تلخ حقیقت ہے ۔ اس کے بارے میں انسانی ذہن ہمیشہ سے سوچتا رہا ہے ، سوال قائم کرتا رہا ہے اور ان سوالوں کے جواب تلاش کرتا رہا ہے لیکن یہ ایک ایسا معمہ ہے جو نہ سمجھ میں آتا ہے اور نہ ہی حل ہوتا ہے ۔ شاعروں اور تخلیق کاروں نے موت اور اس کے ارد گرد پھیلے ہوئے غبار میں سب سے زیادہ ہاتھ پیر مارے ہیں لیکن حاصل ایک بےاننت اداسی اور مایوسی ہے ۔
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

معروف و مشہور سیاسی ، سماجی ، روحانی شخصیت حضرت میاں بشیر ااحمد لاروی (رح ) اگرچہ آج ھمارے درمیان موجود نہیں ھے تاھم اُنکی یادیں ھمیشہ ھمارے ساتھ رھے گی اُنہوں بحثیت ایک سیاسی رھنما اپنے دورِ اقتدار میں عوام کے لیے جو خدمات انجام دی اُنہں ھم کبھی بھلا نہیں سکتے میاں بشیر احمد لاروی صاحب کی تاریخ سے ھمیں کافی کچھ حاصل ھوتا ھے اگرچہ اُنہوں نے سیاست کو بہت جلد ترک کردیا تھا تاھم اُنہوں نے اپنے وقت سیاست کو عبادت سمجھ انجام دیا
خیر سے رہتا ہے روشن نام نیک
حشر تک جلتا ہے نیکی کا چراغ
۔ مرحوم 98 برس کے تھے۔ اُن کا تعلق گاندربل ضلع کے علاقہ ونگت کنگن سے تھا جہاں اُنہوں نے اپنی آخری سانس لی

حضرت اعلیٰ گجر رہنما ، روحانی شخصیت میاں نظام الدین لاروی( رح) کے فرزند اور سابق وزیر میاں الطاف احمد کے والد تھے۔

اُن کا نمازے جنازہ اتوار کے روز کنگن کے بابا نگری وانگت میں واقع مزار شریف بابا جی صاحب لاروی رح میں ادا کیا گیا جہاں کثیر تعداد میں لوگوں نے کے نمازے جنازہ میں شرکت کی
بزرگ روحانی شخصيت ولی اللہ میاں بشیر احمد لاروی رحمت اللہّٰ علیہ دارالفنا۶ سے دار البقا۶ کی جانب خاموشی سے پنا سفر اختیار کرچکے ہیں ۔
اُن کی زبان مبارک مِٹھاس اور شیرینی والی تھی آپؒ کی باتوں سے روحانیت کی خشبو آتی تھی جسکی وجہ یہ تھی کہ آپ کو بچپن ہی میں ایک ولی اللہّٰ عرف بابا جیصاحبؒ نے جو آپ کے دادا تھے گُل ستی دی تھی اس واقعہ کا ذکر دربار لار شریف سے شاٸيہ ہونے والی کُتب میں متعدد بار لکھا گیا ھے سنا گیا ھے کہ
ایک بار میاں بشیر صاحبؒ سخت بیمار ہوئے اور کوٸی دواٸی اثر نہ کر رہی تھی تو آپ کو آپنے دادا میاں عبیداللہّٰ عرف باباجیصاحب رحمت اللہ علیہ نے نیم مُردہ حالت میں أٹھایا اور مسجد شریف میں چلے گئے کچھ مدت کے بعد باہر آۓ تو وہ بلکل ٹھیک ہو چکا تھا آپؒ کو آپنے پوتے میاں بشیرُاحمد صاحبؒ سےکتنی محبت تھی اسکا اظہار وصال سےکچھ عرصہ پہلے جیصاحبؒ کی لکھی گٸ سی حرفی میں کچھ یوں کیا گیا ھے
ر = رخصت ہون تھیں پیش اگے اساں دل دیاں خبراں دیتاں وے
دس بجے أٹھ روان ہوۓ جدوں رزق مہاراں چھکیاں وے
شاید بشیر ہوسی دلگیر ڈاہڈا گلاں یاد آون نالے مٹھیاں وے
عبدُ لکھ حال احوال سارا نالے لِکھو بشیر دیاں چھٹیاں وے
بِل اخر میاں بشیر احمد لاروی رحمت اللہ علیہ کی روح مبارک کا پرندہ آپنے دادا یعنی جیصاحب کو ملنے کےلیے پرواز کر چکا ھے اور انکا جسدِخاکی حاجی بابا کی دائيں جانب اور باباجیصاحب کی باٸیں جانب ( یعنی باپ اور دادا دونوں کے ساتھ) ملاقات کرنے أتر چکا ھے
ھوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

میاں بشیر احمد لاروی نومبر 1923 میں پیدا ہوئے ۔وہ شیخ عبداللہ کی کابینہ میں وزیر تھے۔ بعد میں اس نے سیاست چھوڑ دی اور اسلامی صوفی روایت کے لیے کام کرنا شروع کیا اور پسماندہ لوگوں کی مدد کی۔

2008 میں انہیں گجر ، بکروال اور دیگر پسماندہ طبقوں کے لیے غیر معمولی خدمات کے لیے ’پدم بھوشن‘ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا
کسی بھی چیز کے کھو جانے لیکن خاص طور پر کسی قریبی انسان کی موت کے بعد انسان غم کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ یہ تمام مراحل اپنا وقت لیتے ہیں لہٗذا اس ان کو جلدی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ہم عموماً زیادہ دکھی تب ہوتے ہیں جب کسی ایسے شخص کو کھو دیں جو ھمارے دل کے کافی قریب ھو
دل کے قریب شخصیت کے انتقال کے فوراً بعد زیادہ تر لوگ پہلے کچھ گھنٹوں اور دنوں تک شدید بے یقینی کا شکار ہوجاتے ہیں ،انہیں یہ یقین نہیں ہوتا کہ ایسا ہو چکا ہے۔ بعض دفعہ ایسا کسی طویل اور شدید بیماری کے بعد ہوتا ہے جب کہ پتہ ہوتا ہے کہ انکی موت کا وقت قریب ھے لیکن اس کے باوجود انتقال کے بعد انہیں کچھ دیر تک اس پر یقین نہیں آتا۔ اس بے یقینی کا کچھ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کو انتقال کے بعد کے کچھ مراحل مثلاً رشتہ داروں کو اطلاع دینا اور تدفین وغیرہ سے گزرنے میں کچھ آسانی ہو جاتی ہے لیکن اگر یہ حالت زیادہ عرصے تک رہے تو مشکل ہو سکتی ہے۔

کون جینے کے لیے مرتا رہے
لو، سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے

بہت دفعہ مرنے والے کی نعش کو دیکھنے سے انسان کو اس بات کا یقین آنا شروع ہوتا ہے کہ ایسا واقعی میں ہو چکا ہے۔اسی طرح تہجیزو تکفین کی رسومات سے گزرنے سے انسان کو اس تکلیف دہ حقیقت پہ یقین آنا شروع ہوتا ہے۔بہت سے لوگوں کے لیے اپنی قریبی عزیز کی نعش کو دیکھنا یا اس کے جنازے میں شریک ہونا بڑے تکلیف دہ مراحل ہوتے ہیں جس کی شدت کو سہنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ اپنی ٘محبوب ہستیوں کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہنے کا طریقہ ہوتا ہے۔

شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
پروردگار سے دعا کرتا ھوں اللہ حضرت میاں بشیر صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کریں اور درجات بلند فرمائے (آمین)

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.