آنکھوں میں آئے اشک ہم چھپا رہے تھے
کہ دل مضطر کے غم ہمیں ستا رہے تھے
گیت گا رہے تھے پنچھی وہاں میری محبت کے
میری وفاؤں کے زمانے کو قصے بتا رہے تھے
اور میں بیٹھا تھا اپنے قصے سنانے محفل میں
جسے چاہتا تھا سنانا تو دیکھا وہ ہنسی اُڑا رہے تھے
بڑی تہذیب سے پالا ،پوسا اور پُکارتا تھا جنہیں
اُنھیں کے تلخ الفاظ مجھے اندر ہی اندر کھا رہے تھے
تھا ان کو کتنا شعور وہ کتنے چالاک بن رہے تھے
جو رکھ کے منہ لوگوں کو باتیں مجھے سنا رہےتھے
میں اُن کی خاطر لڑا تھا دنیا سے صابر جانی
جو مُڑ کے دیکھا تو وہ موڑ کر منہ جا رہے تھے