تمنہ میں جنگلاتی اراضی سے بے دخل کرنے کی کوشش پر محکمہ جنگلات اور وہاں آباد گوجر بستی کے درمیان ٹھن گئی
محکمہ جنگلات اپنی زمین کھبی بھی واپس لے سکتا ہے ڈی ایف او کہمل محمد ایوب پنڈت کا شاہی فرمان
کپواڑہ/15 ستمبر/طارق راتھر
تمنا کپوارہ کے گجر طبقہ لوگوں نے یکجا ہوکر محکمہ جنگلات کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمنہ کپوارہ کے گاوں میں ان گجر لوگوں کی قبضے میں زمین کو محکمہ جنگلات اپنے قبضے میں لینا چاہتا ہے اور اس زمین کی تار بند کرکے جنگل نرسری تعمیر کرنے چاہتا ہیں لیکن ان گجر لوگوں کا کہنا ہے کہ فارسٹ ایکٹ کے تحت ہمیں یہ زمین قبضے میں ہے اور اس زمین میں ایک گورنمنٹ ہائی اسکول اور کچھ مکانات بھی ہے لیکن محکمہ جنگلات کے اہلکار ان لوگوں کو اس زمین سے قبضہ ہٹانے کو کہہ رہے ہیں لیکن ان لوگوں نے اس زمین سے قبضہ ہٹانے پر صاف انکار کیا اور کہا اس زمین پر ایک ہائی اسکول بھی آتا ہے جس کو بھی محکمہ کے اہلکار تار بند کرکے اس سے پنچرا بنانا چاہتے ہیں دریں اثناء جموں کشمیر گجر بکروال اور پہاڑی عوامی فورم کا سٹیٹ چیرمین عرفان بڑھانہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اپنی جان دے سکتے ہیں لیکن اس زمین پرنرسری تعمیر نہیں کرنے دیں گے ہم یہ مسلہ دہلی تک لینے کے لئے تیار ہے انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں ادھر نمائندے نے جب ڈی ایف او کہمل محمد ایوب پنڈت سے بات کی تو انہوں نے کہا یہ زمین محکمہ جنگلات کی ہے جنگلات محکمہ جب چاہئے اس سے واپس لے سکتا ہے اس جنگلاتی زمین میں جو سرکاری اسکول ہے وہ بھی جنگلات کے زمین میں تعمیر ہوا ہے محکمہ جنگلات اپنے زمین پر تار بندی کرسکتا ہے ۔