رمضانُ المبارک میں پٹن کے درجنوں دیہات بجلی سے محروم، عوام شدید مشکلات سے دوچار
وانی گام، تیلہ گام، بہرم پورہ، دارگام، ہرہند پورہ، خیرآباد، چندر سیرہ سمیت کئی علاقے برقی رو سے محروم
پٹن/ 09 مارچ/ عاشق تلگامی
رمضانُ المبارک کے مقدس مہینے میں بھی شمالی کشمیر کے پٹن کے کئی دیہات بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جس کے باعث عوام کو سحری اور افطاری میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وانی گام، تیلہ گام، بہرام پورہ، دارگام، ہرہند پورہ، خیرآباد، چندر سیرہ اور دیگر ملحقہ دیہات میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی عدم دستیابی نے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ان علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی کوئی نئی بات نہیں، لیکن رمضان کے مقدس مہینے میں مکمل بلیک آؤٹ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ "ہماری روزمرہ کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ سحری اور افطاری کے وقت ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے ہم موم بتی، لالٹین اور گیس لائٹ استعمال کر کے گزارا کر لیتے تھے، لیکن اب ہم بجلی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ نہ بچوں کی پڑھائی ممکن ہو رہی ہے، نہ ہی گھریلو کام کاج آسانی سے ہو پا رہے ہیں۔”
علاقے کے لوگوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کا فوری حل نکالیں تاکہ رمضانُ المبارک کے مقدس مہینے میں انہیں کم از کم بنیادی سہولتوں سے محروم نہ رکھا جائے۔ مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو متاثرہ علاقوں کو کسی دوسرے گرڈ سے جوڑا جائے یا ٹپر گرڈ اسٹیشن کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے تاکہ عوام کو ان مشکلات سے نجات مل سکے۔
محکمہ بجلی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر (AEE) نے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری لوڈ کم کریں، تاکہ بجلی کی سپلائی بلا تعطل جاری رہ سکے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "جب ہم تاپر گرڈ اسٹیشن سے بجلی فراہم کرتے ہیں تو زیادہ لوڈ کی وجہ سے سسٹم پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی میں خلل پڑتا ہے۔ اگر لوگ بجلی کے استعمال میں اعتدال برتیں اور غیر ضروری برقی آلات کم استعمال کریں، تو بجلی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
محکمہ بجلی عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کرتا ہے تاکہ رمضان المبارک میں بجلی کی سپلائی کو ممکن حد تک مستحکم رکھا جا سکے۔