The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

دیندار اور بااخلاق پرنسپل: ایک تعلیمی ادارے کی روح

0

از قلم : شاہ نواز نظیر
زگی پورہ، چرارشریف

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے، اور اس کی عمارت کا سب سے مضبوط ستون ایک دیانتدار، دیندار اور بااخلاق پرنسپل ہوتا ہے۔ ایک ایسا رہنما جو نہ صرف نصاب کی تکمیل کو اہم سمجھے بلکہ طلبہ اور اساتذہ کی اخلاقی تربیت کو بھی اپنی ذمہ داری جانے۔ ایک ایسا شخص جو اصولوں پر کاربند ہو، انصاف پسند ہو، اور اپنے کردار سے دوسروں کے لیے ایک عملی مثال قائم کرے۔

ایسا پرنسپل محض ایک منتظم نہیں ہوتا بلکہ ایک رہنما ہوتا ہے، جو روشنی کی مانند پورے تعلیمی ماحول کو منور کر دیتا ہے۔ اس کا ہر فیصلہ، ہر قدم اور ہر ہدایت نسلوں کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ وہ طلبہ کو محض کتابی علم نہیں دیتا بلکہ انہیں عزت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کا سبق بھی سکھاتا ہے۔ اس کی قیادت میں تعلیمی ادارہ صرف ایک درسگاہ نہیں بلکہ کردار سازی کا مرکز بن جاتا ہے، جہاں علم کے ساتھ ساتھ حیا، ادب اور شائستگی کی قدریں بھی پروان چڑھتی ہیں۔

حال ہی میں ناگام ہائر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل، سید مظفر صاحب کی ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ اپنے اساتذہ کو ہدایت دے رہے تھے کہ کوئی بھی مرد استاد کسی بھی طالبہ کو ہاتھ نہ لگائے، چاہے وہ کم عمر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ہدایت سن کر دل خوش ہو گیا، کیونکہ یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کی پاسداری ہے بلکہ اخلاقی لحاظ سے بھی بے حد ضروری ہے۔ ایسے پرنسپل ہی حقیقی رہنما ہوتے ہیں، جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ان کی سوچ، ان کے فیصلے اور ان کی قیادت سے پورے تعلیمی نظام میں ایک پاکیزگی اور تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے، جہاں طالبات اور طلبہ بلا خوف و خطر اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں۔

جب کسی ادارے میں ایسا پرنسپل ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف اساتذہ پر بلکہ طلبہ پر بھی گہرے مرتب ہوتے ہیں۔ اساتذہ اپنی ذمہ داری کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں، اور طلبہ بھی صرف امتحانات میں کامیابی کے لیے نہیں بلکہ علم کو ایک امانت جان کر سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے اداروں سے نکلنے والے طلبہ صرف ذہین نہیں ہوتے بلکہ باکردار، دیانتدار اور نیک سیرت بھی بنتے ہیں۔ وہ اپنے علم کو دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ خدمتِ خلق کے جذبے کے تحت بروئے کار لاتے ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے کردار سے اپنی درسگاہ کا نام روشن کرتے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوتا ہے، اور تعلیمی اداروں کا معیار ان کے قائدین پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ہر اسکول اور کالج کو ایسا پرنسپل نصیب ہو جو دین اور اخلاقیات کو بنیاد بنا کر تعلیمی نظام کو استوار کرے، تو ایک بہتر اور باوقار معاشرے کی تشکیل یقینی ہو سکتی ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اور مولانا جلال الدین رومی کہتے ہیں:

علم وہ نہیں جو صرف زبان پر ہو،
علم وہ ہے جو تمہارے کردار میں نظر آئے۔

اگر ہمارے تعلیمی ادارے ایسے ہی دیندار، بااخلاق اور اصول پسند قائدین کے زیرِ سایہ پروان چڑھیں تو یقیناً ہم ایک ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو نہ صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرے بلکہ دین و اخلاقیات کے اعلیٰ اصولوں پر بھی کاربند رہے۔ ایک پرنسپل کا کردار صرف ایک ادارے کی بہتری تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ پورے معاشرے کی تعمیر میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ چراغ کی مانند ہوتا ہے، جو نہ صرف خود روشنی دیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی روشنی لینے کا ہنر سکھاتا ہے۔

اللہ ہمیں ایسے رہنما عطا کرے جو علم کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے بھی امین ہوں، جو نئی نسل کو نہ صرف کامیابی بلکہ عزت، حیا اور دیانت کا درس دیں۔ آمین!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.