The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

مغل شاہراہ کا دل پیر کی گلی، سیاحوں کی توجہ کا مرکز ، حکومت کی عدم توجہی کی شکار

تاریخی مقام، روحانی زیارت، سیاحتی خزانہ، کیا پیر کی گلی کی سنی جائے گی فریاد؟

 

 

 

✍️تحریر : صحافی توصیف گنائ (پونچھ)

 

جموں و کشمیر کو قدرت نے جتنے بے مثال نظارے عطا کیے ہیں، شاید ہی کسی اور خطے کو اتنا فیاض پایا گیا ہو۔ کہیں جھیلوں کی جھلک، کہیں برف سے ڈھکے پہاڑ، کہیں چمکتے جھرنے اور کہیں صوفیائے کرام کی چپ و سکون سے بھرپور خانقاہیں، وادئ کشمیر واقعی زمین پر جنت کی مانند ہے۔ انہی دلکش نظاروں میں ایک ایسا مقام بھی ہے، جو اب تک سیاحتی نقشے پر پوری طرح اُجاگر نہیں ہو پایا، حالانکہ اس کی خوبصورتی، روحانیت اور تاریخی اہمیت کسی بھی مشہور مقام سے کم نہیں۔ یہ جگہ ہے — پیر کی گلی۔

 

پیر کی گلی، مغل شاہراہ پر واقع ایک بلند و بالا اور انتہائی حسین مقام ہے جو ضلع پونچھ کے پوشانہ علاقے کو ضلع شوپیاں کے ہیرپورہ گاؤں سے جوڑتا ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 3,484 میٹر ہے، جو اسے اس سڑک کا سب سے اونچا مقام بناتی ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک طرف کشمیر وادی کا جادوئی حسن آپ کو مسحور کر دیتا ہے، تو دوسری طرف پیر پنجال کے بلند پہاڑ، گھنے جنگلات اور دل موہ لینے والے مناظر قدرت کی صناعی کا منہ بولتا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

 

یہاں کی ہوائیں جسم و روح کو تروتازہ کر دیتی ہیں۔ چشمے اور جھرنے جیسے قدرت کے نوٹوں پر لکھا ہوا موسیقی کا نغمہ معلوم ہوتے ہیں، جب کہ کبھی دھوپ اور کبھی بادلوں سے چھن چھن کر آتی روشنی منظر کو رومانوی بنا دیتی ہے۔ یہاں برفباری کے مناظر کو دیکھنے کے لیے سردیوں میں سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں، جب کہ گرمیوں میں ہریالی اور ٹھنڈی فضا دل کو بہا لے جاتی ہے۔

 

پیر کی گلی کا تعلق صرف قدرتی خوبصورتی سے نہیں بلکہ تاریخ سے بھی گہرا ہے۔ اس کا نام ایک بزرگ صوفی ولی حضرت شیخ احمد کریم رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ہے، جنہوں نے یہاں قیام فرمایا۔ ان کی زیارت آج بھی یہاں موجود ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں مسافر حاضری دیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مقام کی تاریخ کشمیری صوفی بزرگ شیخ نورالدین نورانی (رحمۃ اللہ علیہ) کے دور سے جڑی ہوئی ہے، جو کشمیری ریشی روایت کے عظیم پیشوا گزرے ہیں۔

 

اس شاہراہ کو مغل بادشاہوں نے کشمیر کے سفر کے لیے استعمال کیا۔ روایت ہے کہ مغل بادشاہ جہانگیر نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام میں اسی شاہراہ سے گزرنے کا ارادہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس سڑک کو مغل روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاریخی، روحانی اور جغرافیائی لحاظ سے پیر کی گلی کا کردار ہر پہلو سے خاص اور منفرد ہے۔

 

 

حالیہ برسوں میں مغل روڈ پر سفر کرنے والوں میں اضافہ ہوا ہے، اور پیر کی گلی اُن کا لازمی پڑاؤ بنتا جا رہا ہے۔ لوگ یہاں رکتے ہیں، زیارت پر حاضری دیتے ہیں، ستو اور نمکین چائے کی چسکیاں لیتے ہیں، اور قدرتی مناظر کے ساتھ اپنی سیلفیاں اور یادیں محفوظ کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے یہ مقام انسٹاگرام اور فیس بک کی تصویروں کے لیے پسندیدہ ہے، جب کہ بزرگ افراد اس مقام سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔

 

سیاحوں کا کہنا ہے کہ یہاں کی فضا دیگر معروف مقامات جیسے گلمرگ، پہلگام یا سونہ مرگ سے بھی زیادہ خالص اور پُرسکون ہے، کیونکہ یہاں اب تک تجارتی شور، بلند عمارات، اور رش سے دور ایک قدرتی سکون قائم ہے۔

 

پیر کی گلی کی تمام تر خوبصورتی اور اہمیت کے باوجود یہاں سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ سب سے پہلے یہاں بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں، جو خواتین سیاحوں اور بزرگوں کے لیے خاصی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بارش یا برفباری کی صورت میں پناہ لینے کے لیے کوئی شیڈ یا محفوظ جگہ موجود نہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ یہاں موبائل نیٹ ورک کی ناقص یا مکمل غیر موجودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نہ صرف سیاح کسی سے رابطہ نہیں کر سکتے بلکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں بھی مدد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کمی نے کئی مرتبہ سیاحوں کو پریشان کیا ہے، خاص طور پر اُن افراد کو جو یہاں پہلی بار آتے ہیں۔

 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے پیر کی گلی کی سیاحتی اہمیت کو اُجاگر کرنے اور بنیادی سہولیات کے مطالبات کرتے آ رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ محکمہ سیاحت کی خاموشی اور انتظامیہ کی عدم دلچسپی نے پیر کی گلی کو ایک خوبصورت مگر محروم مقام بنا دیا ہے۔

 

یہ وہ وقت ہے جب حکومت کو نئی سیاحتی پالیسیوں، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کے فروغ پر کام کرنا چاہیے، تاکہ نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے بلکہ مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں۔

 

اگر حکومت اور محکمہ سیاحت سنجیدگی سے اس مقام پر توجہ دے، تو یہاں درج ذیل سہولیات فراہم کر کے پیر کی گلی کو ایک مثالی سیاحتی مقام بنایا جا سکتا ہے, پبلک بیت الخلاء کی تعمیر، بارش و برف سے بچاؤ کے لیے شیڈز اور ہٹ بنانا، ایک چھوٹا سا ریسٹ ہاؤس یا گیسٹ ہاؤس، انفارمیشن بورڈز اور رہنمائی کے نشانات، نیٹ ورک ٹاورز کی تنصیب، تربیت یافتہ مقامی ٹور گائیڈز اور سیاحوں کے لیے کیمپنگ زون.

ان اقدامات سے نہ صرف سیاحوں کو بہتر تجربہ حاصل ہوگا بلکہ مقامی افراد کو روزگار اور تجارت کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

 

پیر کی گلی صرف ایک قدرتی مقام نہیں بلکہ ایک ثقافتی، تاریخی اور روحانی ورثہ ہے۔ اگر اس مقام پر توجہ دی جائے، اسے باقاعدہ سیاحتی مرکز کے طور پر فروغ دیا جائے، اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے بھارت کا ایک نمایاں سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ آج پیر کی گلی ہمیں بلا رہی ہے اپنی خاموش فضا، برف سے ڈھکے راستے، اور روحانی سکون کے ساتھ۔ سوال یہ ہے: کیا ہم اس کی پکار سنیں گے؟

تبصرے بند ہیں.