آزاد کلچرل فورم کی طرف سے یوم موتی لعل ساقی بڑے ہی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا
موہنور چاڈورہ میں مرحوم شاعر کے آبائی گھر میں ادبی تقریب کا کیا گیا انعقاد
موہنور چاڈورہ/14 جولائی/شہنواز نزیر
آزاد کلچرل فورم چاڈورہ کی جانب سے گزشتہ روز ایک اہم اور تاریخی قدم اُٹھایا گیا — عظیم ادیب، شاعر اور محقق پنڈت موتی لال ساقی کے آبائی گھر، موہنور چاڈورہ میں اُن کے ادبی و تہذیبی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقعے پر ایک باوقار اور پراثر ادبی تقریب منعقد ہوئی جس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے علمی، ادبی، سماجی، اور ثقافتی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
تقریب کا آغاز پروفیسر رؤف عادل کے جامع اور فکری خطبۂ استقبالیہ سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض معروف محقق و دانشور ڈاکٹر سید افتخار نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب میں متعدد اہم مقالے بھی پیش کیے گئے:
معروف سماجی کارکن سید ریاض نے پنڈت موتی لال ساقی کی شخصیت اور سماجی خدمات پر مبنی ایک بصیرت افروز مقالہ پیش کیا۔ موسیقار اور محقق اسد انجم نے ساقی صاحب کی ادبی و فنی زندگی پر روشنی ڈالی۔ آزاد کلچرل فورم کے صدر قیوم کشمیری نے بھی ایک تحقیقی مقالہ پیش کرتے ہوئے ساقی صاحب کی کشمیری تہذیب کے لیے خدمات کا جامع جائزہ پیش کیا۔
اس یادگار موقع پر ایک خوبصورت مشاعرہ بھی منعقد ہوا، جس میں جموں و کشمیر کے ممتاز شعرا نے شرکت کی اور پنڈت موتی لال ساقی کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شریک شعرائے کرام کے اسماء درج ذیل ہیں:
امتیاز بگامی، غلام محی الدین خادم، غلام نبی ڈار، غلام محی الدین چوپان، ماسٹر بشیر زوہامی، محمد یوسف خیال، مجید مسرور، منظور سیلانی، غلام قادر بیدار، محمد شفیع، محمد رمضان ڈار، شاہنواز نذیر، شاہ زبیر، شاہ وسیم، اقراء پرواز، شمس الدین حکیر، سلام چراؤنی، فہیم فردوس۔ محمد یوسف فیروزی، محدِ میر مخدومی، قابل ذکر ہے
مشاعرے کے دوران، کشمیری موسیقی کے ممتاز فنکار عبدل غفار کانہامی، فیاض احمد, جلال دین، اور اطہر بلپوری نے موتی لال ساقی کا کلام اپنی مدھُر آواز میں پیش کر کے حاضرین کو مسحور کر دیا۔
تقریب کے دوران آزاد کلچرل فورم چاڈورہ کی جانب سے تین ممتاز شخصیات کو اعزازی شال و سند پیش کر کے اُن کی علمی و فنّی خدمات کا اعتراف کیا گیا:
معروف ادیب و قلمکار مجید مسرور، استاد موسیقار عبدالغفار کانیہامی، ساقی صاحب کے بہنوئی جناب پی کے بھٹ.
تقریب کے سرپرستِ اعلیٰ جناب علی محمد شیرآزی کرالہ واری نے تمام مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس موقعے کو ساقی صاحب کے خواب کی تکمیل قرار دیا۔
آزاد کلچرل فورم چاڈورہ، اپنی ادبی، سماجی اور ثقافتی ذمہ داریوں کے تحت حکومتِ جموں و کشمیر سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ پنڈت موتی لال ساقی کے آبائی مکان کو "ورثہ ہاؤس (Heritage House)” کا درجہ دیا جائے، تاکہ آئندہ نسلیں اس ممتاز شخصیت کی علمی خدمات سے روشناس ہو سکیں۔
یہ صرف ایک ادیب کے گھر کو بچانے کا معاملہ نہیں — بلکہ یہ پوری کشمیری تہذیب، گنگا جمنی ثقافت، اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت کو محفوظ رکھنے کا عمل ہے۔ موتی لال ساقی کی شخصیت ہمارے مشترکہ تہذیبی سرمایہ کی ایک روشن علامت ہے، اور ان کے ورثے کا تحفظ ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے۔
ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس مطالبے کو عملی جامہ پہنائے اور ساقی صاحب کے گھر کو ریاستی سطح پر تاریخی و ثقافتی ورثے کا درجہ دے کر محفوظ کرے۔
تبصرے بند ہیں.