زندگی کو یوں گُذارا بھی تو جا سکتا تھا
نَفس کا بوجھ اُتارا بھی تو جا سکتا تھا
چند سَطروں سے ہوئی دوست کے دل میں ہلچل
ذہن کا خوف اُتارا بھی تو جا سکتا تھا
جابجا چہرے کو پردوں میں چھپایا کیونکر
ان نقابوں کو اتارا بھی تو جا سکتا تھا
وقت نے تھوڑی سی مہلت جو ہمیں دی ہوتی
قرضُ _مقروض اتارا بھی تو جا سکتا تھا
جانے کیوں ہاتھ میں جگنو کو دَبایا اس نے
نُور ویرانی پہ وارا بھی تو جا سکتا تھا