The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

*غلام محی الدین خادم صاحب — کشمیری شاعری کا خاموش مسافر*

 

 

تحریر: شاہنواز نظیر

زگی پورہ چرار شریف

7889820373

nawazrather786@gmail.com

 

کشمیر کی ادبی سرزمین ہمیشہ سے تخلیقی ذہنوں کا مسکن رہی ہے۔ یہاں کے شعرا نے نہ صرف فطرت، عشق، درد و جدائی اور معاشرتی شعور کو موضوع بنایا بلکہ کشمیری زبان کو نئی جہات سے بھی روشناس کرایا۔ انہی سنجیدہ مزاج، خاموش مگر مسلسل لکھنے والے شعرا میں ایک اہم نام غلام محی الدین خادم کا ہے، جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے کشمیری زبان و ادب کی خدمت خلوص، محنت اور خاموشی کے ساتھ کی ہے۔

 

ابتدائی زندگی

 

غلام محی الدین خادم صاحب 16 جولائی 1947 کو ضلع بڈگام کے رانگر گاؤں میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ قدرتی حسن اور ثقافتی بیداری کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کے والد کا نام محمد سلطان ڈار اور والدہ کا نام خرشی تھا۔ خادم صاحب کے والدین عام مگر شریف گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے اپنے بچوں کی پرورش دیانت، سادگی اور محنت کے سہارے کی۔ خادم صاحب والدین کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کے دو اور بھائی بھی ہیں جن سے خادم صاحب کو بچپن سے محبت اور خاندانی رشتوں کی گہرائی کا شعور ملا۔

 

یہاں ایک اور اہم پہلو قابلِ ذکر ہے کہ خادم صاحب کشمیر کے معروف انقلابی شاعر عبدالاحد آزاد کے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالاحد آزاد، جو کشمیری زبان و ادب کے روشن ستارے ہیں، عبدالاحد آزاد خادم صاحب کی والدہ کے ماموں تھے۔ اس رشتے نے بھی خادم صاحب کے شعری ذوق اور فکری ساخت کو گہرائی بخشی، اور وہ ادب کے اس شعلہ کو آگے لے جانے والے چراغ بنے۔

 

تعلیم و تربیت

 

خادم صاحب نے دینی تعلیم کا آغاز تین جماعتی مکتب سے کیا جہاں انہوں نے ابتدائی اسلامی تعلیمات حاصل کیں۔ ان کے اندر تعلیم کے تئیں لگاؤ شروع سے ہی تھا۔ دسویں جماعت تک دنیاوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مختصر عرصے میں ویٹنری سائنس میں مہارت حاصل کی اور ویٹنری ڈاکٹر کے طور پر اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ لیکن دل کا ایک گوشہ ادب اور شاعری کے لیے ہمیشہ بے قرار رہا۔

 

شعری سفر کا آغاز

 

ادب سے خادم صاحب کی دلچسپی بچپن سے ہی ظاہر ہونے لگی تھی۔ آٹھویں جماعت میں جب زیادہ تر طلبا کھیل کود یا تعلیم کی طرف مائل ہوتے ہیں، خادم صاحب نے قلم کو شاعری کی طرف موڑا۔ ان کے اندر جو شاعری کی چنگاری تھی، اسے شعلہ بنانے میں معروف کشمیری شاعر غلام عارض نے اہم کردار ادا کیا۔ غلام عارض نے خادم صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں کو پہچانا، ان کی رہنمائی کی، اور حوصلہ افزائی سے انہیں شعر کہنے میں نکھار عطا کیا۔

 

تخلیقات اور مجموعے

 

خادم صاحب نے اپنی شاعری کو وقت کے ساتھ مضبوطی دی اور کشمیری زبان میں دو شعری مجموعے ترتیب دیے:

 

دلک آلو | خاب تہ خیال

 

یہ دونوں کتابیں کشمیری زبان میں لکھی گئی ہیں اور نہ صرف ان کے فکری سفر کی عکاس ہیں بلکہ کشمیری ادب میں ان کی بصیرت، مشاہدہ اور جذبات کی ترجمانی بھی کرتی ہیں۔ ان کتابوں میں عشق، فطرت، وقت کی بے ثباتی، اور انسانی جذبات کو بڑی سادگی اور تہذیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خادم صاحب کے اشعار میں جو سب سے نمایاں وصف ہے، وہ زبان کی سلاست، جذبات کی گہرائی اور احساسات کی پاکیزگی ہے۔

 

ادبی مقام، خدمات اور آزاد کلچرل فورم میں کردار

 

غلام محی الدین خادم نے کشمیری ادب میں اپنے مقام کو محض اشاعت یا شہرت سے نہیں بلکہ مستقل محنت، خلوص اور سچائی سے حاصل کیا ہے۔ وہ بڑے دعوے کرنے والے شاعر نہیں، بلکہ ادب کی کھیتی کو خاموشی سے سینچنے والے کسان کی مانند ہیں۔ وہ نہ تقریبات کے متوالے ہیں، نہ شہ سرخیوں کے متمنی، بلکہ ادب کو عبادت کا درجہ دینے والے ایک درویش مزاج شاعر ہیں۔

 

ادب سے ان کی وابستگی صرف شاعری تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے عملی طور پر بھی ادبی اداروں کے ساتھ گہرا تعلق رکھا ہے۔ خادم صاحب آزاد کلچرل فورم چاڈورہ کے بانی اراکین میں شامل رہے، اور اس فورم کو سرگرم رکھنے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھ جن شخصیات نے اس ادارے کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا رکھنے میں مدد دی، ان میں علی محمد شیرازی اور عبدالغنی پرواز خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

 

خادم صاحب نے نہ صرف اس ادارے کی قیادت کی، بلکہ کئی برسوں تک اس کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کے دورِ صدارت میں آزاد کلچرل فورم نے کئی یادگار مشاعرے، ادبی محفلیں اور ثقافتی تقریبات منعقد کیں، جنہوں نے کشمیری ادب اور ثقافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

 

اگرچہ خادم صاحب اب بزرگی کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں ان کی صحت کچھ کمزور ہوئی ہے، مگر ان کا جذبہ آج بھی جوان ہے۔ صحت کی ناسازی کے باعث انہوں نے صدر کے عہدے سے ازخود استعفیٰ دیا اور یہ ذمے داری قیوم کشمیری صاحب کو سونپی، تاکہ ادارہ نئی توانائی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔ ان کی یہ وسعتِ قلبی اور درویشانہ سوچ ان کے خالص ادبی مزاج کا ثبوت ہے۔

 

خادم صاحب کا اندازِ سخن

 

خادم صاحب کی شاعری میں روایت کی خوشبو بھی ہے اور جدت کا لمس بھی۔ وہ زبان و بیان میں مصنوعی پیچیدگیوں سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی زبان آسان، دل کو چھو لینے والی اور فکری سطح پر گہری ہوتی ہے۔ ان کا کلام کشمیری عوام کے دل کی آواز معلوم ہوتا ہے۔ ان کے اشعار میں ایک قسم کی نرمی، درد، اور وقت کے ساتھ چلنے کا شعور موجود ہے۔

 

ان کے اشعار زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں — کبھی وہ تنہائی کی اذیت بیان کرتے ہیں، کبھی محبوب کی یاد میں بکھرتے ہیں، تو کبھی فطرت کے حسن میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن ہر بار ان کے اشعار قاری کے دل کو چھوتے ہیں، جیسے کوئی اپنا درد سنا رہا ہو۔

 

موجودہ سرگرمیاں

 

اگرچہ خادم صاحب اب عمر کی سنجیدہ منزلوں میں ہیں، لیکن ان کی ادبی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں۔ وہ آج بھی شاعری کر رہے ہیں، مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں، اور نوجوان شاعروں کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ادب کا سفر رکتا نہیں، نسلوں میں منتقل ہوتا ہے، اور اس منتقلی کے عمل میں ان جیسے بزرگوں کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔

 

ایک خاموش شاعر کا روشن چراغ

 

غلام محی الدین خادم صاحب کا نام شاید بڑے پیمانے پر میڈیا یا بین الاقوامی ادبی ایوانوں میں نہ گونجتا ہو، لیکن وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ادب کی بنیادیں مضبوط کرتے ہیں۔ وہ ان شعرا میں شامل ہیں جو کسی گمنام گاؤں سے اپنی زبان اور تہذیب کا پیغام پوری قوم تک پہنچاتے ہیں۔ ان کا خاموشی سے کیا گیا کام وہ روشنی ہے جس سے نئی نسل کے شعرا اور ادیب سیکھ سکتے ہیں۔

 

خادم صاحب کا ادبی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان میں اخلاص ہو، جذبہ ہو اور ادب سے محبت سچی ہو تو وہ نام و نمود کے بغیر بھی ایک درخشاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ان کی شاعری کشمیری ادب کے دامن میں ایک نیا رنگ، ایک نئی مہک اور ایک نئی معنویت لے کر آئی ہے۔ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہیں کہ سنجیدگی، سادگی اور استقامت کے ساتھ ادب کی خدمت کس طرح کی جا سکتی ہے۔

 

ہم دعاگو ہیں کہ خادم صاحب کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے، اور وہ کشمیری زبان و ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ بنے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.