The Daily Urdu Newspaper of Jammu and Kashmir

افسانہ…….. خیال

0

ظفر احمد کھٹانہ

آج پھر آگے تم آنے جانے کی عادت پرانی ہیں تمہاری ۔ چلو ہٹو دور ہو جاؤ میری نظریوں سے۔ میرا کام کرنے دو مجھے۔ معلم ہیں مجھے آج پھر پُرانی یادیں لے کے آئے ہو گئے۔ بات کیا ہے تم آج بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ ہٹو مجھے آج کام ہے میرے پاس تیرے لیے فضول وقت نہیں ہے۔ کا م کے وقت تنگ نہ کیا کر اور نہ ہی میں اپنا وقت ضائع کرنا چاہتی ہوں آپ کے ساتھ ۔آج کل تمہاری تو حد ہی ہیں۔ ساری رات نہ تو خود سوتے ہو اور نہ مجھے آرام کرنے دیتے ہوں ۔ کلاس میں بھی میرے آگئے ہی ہوتے ہوں ۔ ۔ مجھے تو تم نے اپنے دوستوں سے بھی جُدا کر کے تنہا کر دیا ہے۔ تمہارے ساتھ رہ کر نہ تو آنکھوں سے کچھ دیکھ سکی نہ تو کوئی آواز سن سکی میرا جسم جیسے بے جان ہو گیا ہو ۔آخر کار کیا دشمنی ہے میرے ساتھ تمیں۔ اور پہلے کون سی وفا کی ہے میرے ساتھ۔ تم تو اُن کے ہی بول بولتے ہوں۔ تمہیں پتہ ہے ۔ وہ سب تو مجھے بول گے ہے۔ خیر چھوڑو اُن کی بات وہ تو الگ مزاج کے تھے ۔ مگر تمہارا مزاج کسی قسم کا ہے ۔ تم نے تو اُن کی بات مان لی تب میرا احساس نہیں ہوا ۔ بس خوش۔۔۔۔۔! ہو گئی مجھے کالج جانے کو دیر۔ آفسوس آج پھر میری کام بگاڑ دیا۔ سچ میں کالج کے لیے دیر ہوگئی ۔ پر کیا کرے کالج تو جانہ ہے ۔ نیکلُو مجھے تیار ہونے دو – ہائے افسوس – کمرے میں وردی پر استری رکھا تھا ۔ بجلی بھی پتہ نہیں کب کی آئی ہوگی ۔ دورمجھے کمرے میں جانے دو ۔ یا اللہ اس وردی کا کیا ہو گیا ۔ اپ لج کیا پھن کے جاؤں ۔ ابھی یہی ہو ابھی بھی یہی ہو میرا انتا نقصان کرکے۔ کون کرے گا۔اپ یہ نقصان پورا ۔ کچھ کہ بھی تو نہیں سکتی تمھیں ۔نہیں کوئی سزا دے سکتی ہو ۔ چلو دور ہو جاوں میری نظروں سے آج کےبعد کوئی بھی رشتہ نہیں ہمارے در سیمان۔ کیا کر دیا وردی کا شرم بھی تم کو ۔ کتنے روپ ہے تمھارے۔ کسی کو میری طرح تباہ کر کے نہ چھوڑ دینا ۔ مجھے کوئی بحث نہیں کرنی۔ فضول ہے تمہارے ساتھ بحث کرنا ۔ غلطی تو میری ہی تھی۔ جو میں خوش تھی آپ کے ساتھ ۔ آپ تو چلئے جاؤں ۔ تم جاؤں گئےمگر نقصان کر کے ۔ شکر ہے چلے گیا ۔اللہ کرے واپس نہ آئے۔ شاید یہ خیال بھی ایک بیماری ہے۔ سچ منو تو اسی خیال نے بیمار کر دیا ہے ۔پتا نہیں اس خیال کی وجہ سے کتنے لوگ بیمار ہوئے ہو گے ۔۔۔۔۔!
تحریر ۔۔ اقبال ظفر اعوان ( پہلی پورا کیلر )
ترجمعہ نگار ۔۔ شہزاد احمد کھٹانہ ( کیلر شوپیان )
shahzadkhatana19@gmail.com

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.